کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ 7 ستمبر 2018 ءسے گورنرہاﺅس کے لان کو فیملیز کے لئے کھول دیا جائے گا اس ضمن میں گورنرہاﺅس کے گیٹ نمبرایک پر فیملی سے شناختی کارڈ لے کر ان کو داخلے کی اجازت دی جا ئے گی ، گورنرہاﺅس میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے دفتر ، قائد سے متعلق تاریخی اشیاء کو دیکھ اور لان میں گھوم پھر سکیں گے ، اسکولز کے بچوں کے لئے ایجوکیشنل ٹورز منعقد کئے جائیں گے بچوں کو تاریخی عمارت گورنر ہاؤس اور اس میں بابائے قوم سے منسوب اشیاء، دفتر اور زیر استعمال دیگر چیزیں دکھائی جائیں گی اس کے علاوہ گائیڈڈ ٹور پر ہونگے جس میں گائیڈ لوگوں کو تاریخی عمارت ، قائد کے زیر استعمال رہنے والا دفتر ، کمرے ، کرسی ، ٹیبل اور دیگر تاریخی چیزیں دکھائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی ایل سی کے دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ گورنرسندھ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے چاروں گورنر ہاﺅسز کے مستقبل کے بارے میں سفارشات مرتب کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے کام شروع کردیا ہے ، کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہی گورنر ہاﺅسز کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاﺅس کے صرف دو کمرے استعمال میں لائے جارہے ہیں جس میں ایک آفس اور دوسرا لائبریری کا کمرہ ہے ، میرے استعمال میں گورنر ہاﺅس کی صرف ایک گاڑی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سے 15 ستمبر یا 16 ستمبر کو کراچی کے دورہ کی درخواست کی ہے ۔اس سے قبل گورنرسندھ نے سی پی ایل سی کے دورہ کے دوران کہا کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں مثالی امن و امان کے قیام کے لئے اداروں بالخصوص جرائم کے خلاف کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ مل کر موئثر اور مربوط اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، شہر میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمہ کے لئے جرائم پیشہ عناصر کی شناخت ،حرکات و سکنات اور بروقت معلوم کی رسائی سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اس ضمن میں سی پی ایل سی جرائم پیشہ عناصر کے ڈیٹا جمع کرنے کا اہم کام کرنے والا سرفہرست ادارہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (CPLC) کے دورہ کے دوران کیا ۔ گورنر سندھ نے سی پی ایل سی کے سنٹرل رپورٹنگ سیل کا دورہ کیا اور سی پی ایل سی کے کردار،افرادی قوت ، شہر میں جرائم کے ڈیٹا جمع کرنے میں سی پی ایل سی کی افادیت اور فعالیت کا بغور مشاہدہ کیا۔ گورنر سندھ کی سی پی ایل سی آمد پر چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب، ڈپٹی چیفس، زونل چیفس اور ارکان نے ان کا خیر مقدم کیا۔ گورنر سندھ کو چیف سی پی ایل سی سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے سی پی ایل کے قیام کے آغاز، اپ گریڈ سافٹ ویئر اور چوبیس گھنٹے شہریوں کو وسیع خدمات فراہم کرنے کے بارے میں بتایا۔ گورنر سندھ نے سی پی ایل سی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے انھیں سراہا اور مزید موثر طریقے سے مطلوب مجرموں کو گرفتار کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی تعریف کی . انہوں نے شناخت منصوبے اور سی پی ایل سی کے ویلفیئر اسکولوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے پولیس کمپلینٹ سیل، جنرل کمپلین ہینڈلنگ ڈیپارٹمنٹ، آئی ٹی سیل، خاکہ یونٹ اور کال سینٹرکا دورہ کیا۔ جہاں ان کو بتایا گیا کے سی پی ایل سی کے کال سینٹر پر پورے پاکستان کے شہریوں کی رسائی ممکن ہے جس میں ہنگامی حالات، اطلاعات اور شہریوں کے مسئلے کے حل کے معاملات سے متعلق کالز ہینڈل کی جاتی ہیں۔چیف سی پی ایل سی سندھ زبیر حبیب نے سی پی ایل سی کے مرکزی رپورٹنگ سیل میں آنے پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا شکریہ ادا کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کے سی پی ایل سی نے موثر طریقے سے مدد و تعاون کی رسائی کو شہریوں تک توسیع دی۔ گورنر سندھ نے صوبے میں جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے سی پی ایل سی کی ٹیم کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔