کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ ہائی کورٹ نے پاسبان کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی محتسب کیس میں گورنر سندھ، وزیر اعلی سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، چیف سیکریٹری سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مبنی دو رکنی بینچ نے کی۔ دریں اثناء سندھ ہائی کورٹ نے 3 مارچ کو ہونے والی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو جواب کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ پاسبان کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست 929/2020 میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے بدنیتی پر مبنی ایک بل کو نامکمل کورم کے ساتھ عجلت میں پاس کر کے محتسب کی تقرری کے اختیارات گورنر سندھ سے چھین کر وزیر اعلی سندھ کو سونپ دیئے ہیں اور اسے باقاعدہ ایکٹ کی شکل دے دی ہے، جو کہ 18ویں ترمیم کا ناجائز استعمال ہے۔ اس موقعہ پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور اور عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے میڈیا چوک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر کرپشن کے خلاف اٹھنے والی ہر ٓواز کو دبانا چاہتی ہے۔ جب کہ صوبے میں کرپشن عروج پر ہے۔ تعلیم اور صحت سمیت ہر محکمے کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے ایسے میں سندھ حکومت کی جانب سے یہ ایکٹ سندھ کو تباہ و برباد کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے جسے پاسبان نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ یہ ایک غیر آئینی و غیرقانونی ایکٹ ہے جسے کالعدم قرار دیئے جانے تک پاسبان کی جدو جہد جاری رہے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا مقرر کردہ محتسب صوبائی اداروں کا احتساب کس طرح کرسکتا ہے؟ حکومت سندھ غلط قانون سازی کرکے سندھ حکومت اور صوبے کے اداروں کی نااہلی اور کرپشن کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی حکومت سندھ سمیت کسی کو بھی مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جس کے خلاف شکایت ہو اسی کا مقرر کردہ صوبائی محتسب فیصلے کرنے میں کیسے غیر جانبدار، آزاد اور بااختیار ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اپنے ہی خلاف کسی الزام میں اپنا ہی آدمی جج نہیں ہو سکتا، یہ قانونی اصول ہے۔ معزز عدالت اس ایکٹ کو کالعدم قرار دے اور وفاق کو صوبائی محتسب کی تعیناتی کے اختیارات واپس منتقل کئے جائیں۔
![]()