ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ملک کی جیلوں میں قید 65 فیصد قیدی انڈر ٹرائل ہیں جن کی تعداد 48 ہزار 373 ہے۔ جیلوں میں اصلاحات سے متعلق وزیر اعطم کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی نے یہ انکشاف اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 102 جیلوں میں 56 ہزار 634 قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم اس کے برعکس 77 ہزار 282 قیدی موجود ہیں، 102 جیلوں میں 186 بچے ایسے ہیں جو اپنی ماﺅں کے ساتھ بے گناہی میں قید کاٹ رہے ہیں ملکی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 24 ہزار 771 ہے جبکہ 48 ہزار 743 انڈر ٹرائل ہے، کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے مقدمات جن میں سزا تین سال ہے میں ضمانت کے قواعد کو آسان بنانا چاہیے، رپورٹ کے مطابق جیلوں میں ایسے قیدی بھی ہے جنہیں اپنی بے گناہی کا علم ہی نہیں وہ وکیل کی فیس یا زر ضمانت ادا کرنے کے قابل نہیں اور بلاوجہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق 646 ذہنی مریض بھی موجود ہیں۔ ایسے 105 قیدی بلوچستان میں ہیں جن کے علاج کے لئے دماغی امراج کا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔
![]()