کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) حبیب اللہ خان کا کہنا ہے کہ سائنسی تحقیق معاشی استحکام کی اولین شرط ہے، ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کوشاں ہیں، سائنسی و تحقیقی اداروں کو فعال بنایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جبکہ صدر کاٹی شیخ عمر ریحان، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، نائب صدر کاٹی سید واجد حسین، فرحان الرحمٰن، ڈاکٹر سمیع الزمان، جنید نقی اور دیگر نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔ چیئرمین پی سی ایس آئی آر حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے سائنس و تحقیق کے شعبوں کا فعال کردار انتہائی ضروری ہے اور اس کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو درپیش چیلنجز کو دور کرنے کے لیے پی سی ایس آئی آر بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے سائنسی و تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے مابین ورکنگ ریلشین کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ صنعتوں کی پیدواری لاگت میں کمی کے لیے تحقیقی شعبہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جدید دور کے ساتھ بدلتے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صنعت و تحقیق کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی ایس آئی انتہائی اہم ادارہ ہے، کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں اس کی اہمیت اور مہیا کی جانے والی خدمات سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ شیخ عمر ریحان نے کہا کہ تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے بغیر صنعتی ترقی اور معاشی استحکام ممکن نہیں۔ زبیر چھایا کا کہنا تھا کہ ہماری صنعتوں کو عالمی سطح پر درپیش مسابقت میں مدد فراہم کرنے کے لیے پی سی ایس آئی آر بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں اور تحقیقی شعبے کے مابین روابط بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کاٹی کے نائب صدر اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سید واجد حسین کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور روزگار کی فراہمی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے کئی مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلال سرٹیفکیشن پی سی ایس آئی آر کو ملنی چاہئے، عالمی سطح پر اس انڈسٹری میں پائے جانے والے مواقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پی سی ایس آئی آر سے متعلق ایک تفصیلی پریزینٹیشن بھی دی گئی۔
![]()