Home / اہم خبریں / کراچی پریس کلب میں سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا میٹ دی پریس سے خطاب

کراچی پریس کلب میں سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا میٹ دی پریس سے خطاب

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ غربت مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم نہیں کیا گیا تو خانہ جنگی کا خدشہ ہے، غربت سے تنگ افراد خود کشیاں کر رہے ہیں جرائم چوری ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، حکومت عوام کو بنیادی حقوق اور روزگار فراہم کرئے، ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہیں، آزادی اظہار کے نام پر دین اسلام کی مقدس کتاب قرآن پاک کو جلایا جانا کھلی دہشتگردی ہے، ایسے واقعات مذاہب میں نفرتوں کو جنم دیتے ہیں، سازش کے تحت پوری دنیا میں مسلمانوں پر مظالم ہو رہے ہیں، غیر مسلم تنگ نظری اور عصبیت کا شکار ہوکر اسلام مخالف کام کرکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں، حکومت پاکستان ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے معاملے پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کر دنیا بھر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے، ناروے کے سفیر کو ملک بدر کرے اور ناروے کی تمام مصنوعات کا حکومتی سطح پر بائیکاٹ کیا جائے، اسلام کے اس عظیم ہیرو کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے کفر کی قوتوں کے درمیان میں قرآن پاک کی بے حرمتی کو روکنے کیلئے بڑا قدم اٹھایا پوری دنیا اس مجاہد اسلام نوجوان کو سلام پیش کرتی ہے، پاکستان نازک دور سے گذر رہا ہے اور اس بات کو بار بار دہراتے ہیں مگر آج پاکستان واقعی نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے، تاجر اور صنعتکار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں حکومتی سطح پر اگر سخت فیصلے انہیں اعتماد میں لئے بغیر کئے جائیں تو معیشت بیٹھ جاتی ہے موجودہ حکومت نے بھی یہی کیا اور مشکل ترین فیصلے بغیر اعتماد میں لئے کردیئے جس سے تاجروں میں آج تک بے چینی پائی جاتی ہے، دوسری طرف اگر یہ فیصلے فوری اور ایک ساتھ نہیں کئے جاتے تو شاید اتنے انتشار کی کیفیت نہیں ہوتی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کراچی پریس کلب کے نائب صدر سعید سربازی، جنرل سیکریٹری ارمان صابر بھی موجود تھے، ثروت اعجاز قادری کا میٹ دی پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں مہنگائی ختم ہوجائیگی اور وفاقی مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ ملک کو مشکلات کا ابھی سامنا ہے، معاشی استحکام ہوگیا ہے تو اس کے براہ راست غریب پر فوائد کیوں نہیں مل رہے انہوں نے کہا کہ میں حکمرانوں کو یاد دلاتا چلوں کہ وزیر اعظم صاحب آپ نے اپنے سیاسی جلسوں اور ٹاک شوز میں قوم کو یہ نوید سنائی تھی کہ آپ بر سر اقتدار آکر عام آدمی پر ٹیکس نہیں لگائیں گے اور صرف ٹیکس وصول کرینگے بلکہ جو لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے مگر اقتدار میں آکر اس کے برعکس آپ نے بے دریغ ٹیکس نافذ کئے، ڈالر پر قابو نہیں کرسکے اور مہنگائی نے غریب سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی، تنقید کرنا نہیں چاہتے مگر اصلاح کیلئے بات ضرور کرونگا خانہ جنگی سے ملک کو بچانا ہے تو ایسے اقدامات کرنے ہونگے جس سے عام آدمی کو زندگی گذارنے کیلئے کھانے پینے کی اشیاء سابقہ دور حکومت کے نرخوں سے بھی کم نرخوں پر فروخت کرائی جائیں خانہ جنگی سب سے پہلے شہر کراچی میں ہوتی دیکھائی دے رہی ہے کیونکہ یہ سب سے زیادہ متاثر اور پسماندہ شہر بن چکا ہے۔ وفاق کو 72 فیصد اور سندھ کو 90 فیصد ریونیو دینے والے شہر کی کیا یہ حالت ہوتی ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، سیورج کا نظام درہم برہم اور پینے کو شہریوں کو صاف پانی بھی میسر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کو ختم کرنے میں حکمران طبقہ بے بس ہے لٹیروں کو پکڑا گیا مگر ابھی تک کسی سے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا جاسکا، نیب کو خود مختار اور جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی انتقام نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں کرپٹ لوگوں کو گرفتار کرکے قوم کی لوٹی گئی دولت وصول کی جائے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے زبانی نہیں عملی طور پر اقدامات کئے جائیں، کرپشن کی سزا پڑوس ممالک کی طرح سزائے موت رکھی جائے تاکہ کرپشن کا ملک سے مکمل صفایا کیا جاسکے، مسئلہ کشمیر پر حکومتی سطح پر مرحلہ وار احتجاج بہت ہوچکے اب حکمران مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت کی طرح اقدامات اور زبان استعمال کریں، کشمیر شہ رگ ہے ایسا لگتا ہے کہ شہ رگ کو کاٹ کر پاکستان سے دور کردیا گیا ہے حکمران اپنی پالیسی واضع کریں ملک کے عوام کشمیر کے ساتھ ہیں، کشمیریوں اخلاقی، سیاسی حمایت جاری رکھیں پاک فوج سے عوام کشمیر کے ایشو پر بڑی اُمید رکھتے ہیں کشمیر جل رہا ہے خواتین کی عصمت دری قتل اور کشمیریوں کی جگہوں پر قبضے انتہا خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور انصاف کی فراہمی کو حکومت یقینی بناۓ جس معاشرے میں انصاف تعلیم اور صحت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں وہاں کے معاشرے تباہ اور تاریک میں ڈوب جاتے ہیں، دوہرہ معیار ختم کرکے امیر اور غریب کیلئے یکساں نظام بنایا جائے، حکومت کا آئینی، اخلاقی اور جمہوری فرض ہے کہ وہ عوام کو تعلیم صحت اور سستا انساف فراہم کرے، ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک نے ہر قسم کی انتہا پسندی دہشتگردی کی مذمت کے ساتھ عملی کردار ادا کیا ہے دہشتگردی اور مذہبی جنونیت کے خاتمے کیلئے ہماری دو اعلیٰ قیادتوں کو شہید کردیا گیا، دہشتگرد سمجھتے تھے پاکستان سنی تحریک کو ختم کردینگے وہ دیکھ لیں آج بھی ہم اپنے قائدین کے نقش قدم پر گامزن ہیں انشاء عوام کی خدمت کو عبادت اور شعار بناتے ہوئے مذہبی و فلاحی خدمات جاری رکھیںگے، پاکستان سنی تحریک کے تحت 5 جنوری 2020 کو نشتر پارک میں عظیم الشان جانثاران مصطفی کانفرنس ہوگی۔ جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین و رہنما شرکت کرینگے میں آپ کو پیشگی نشترپارک جلسے کی دعوت دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس کانفرنس کو بھی بھرپور کوریج دی جائیگی، بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد پر فیصلہ شرمناک اور انصاف کا قتل ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے انتہاپسند ہندؤں کے دباؤ میں انصاف کا قتل اور انتہا پسندی کو سپورٹ کیا ہے، جس کی ہر فورم پر مذمت کی جانی چاہیے، بھارتی عدلیہ انصاف کی بجائے انتہا پسند آئیڈیالوجی کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے، بھارتی عدلیہ کے فیصلے سے انتہا پسند ہندؤں کی جنونیت کو فروغ ملے گا، انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ کے مخالفین دیکھ لیں بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ انصاف کا قتل اور مسلم نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارے اکابرین نے دو قومی نظریہ پیش کیا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا، آج کشمیر اور ہندوستان میں دو قومی نظریہ کی حمایت ہو رہی ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیریوں پر انتہا پسند ہندؤں اور بھارتی دہشتگرد فوج کے ظلم و ستم و مظالم پر دل خون کے آنسو روتا ہے، ہمیں ایک قوم بن کر کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے نجات دلانا ہوگی، کشمیر میں ظلم و مظالم بے انتہا ہے کشمیر کا مسئلہ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں اجاگر ہو رہا تھا، میڈیا وار سے کشمیر کے حقائق سے دنیا کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی و مظالم کا پتہ چل رہا ہے ایسی صورتحال میں مولانا نے حکومت گراؤ یا وزیر اعظم سے منصوب استعفی دو احتجاج مارچ کیا اور کئی دن تک دھرنا دیے رکھا اس دوران اداروں کے خلاف دھمکی آمیز رویہ آپ کے سامنے ہے، پرامن احتجاج سب کا آئینی و جمہوری حق ہے مگر مارچ کیلئے ایسا وقت چنا گیا کہ کشمیر کی آواز دب گئی کشمیر کی کاز کو اس مارچ دھرنے سے شدید دھچکا پہنچا، دھرنے میں طالبان اور کالعدم تنظیموں کے جھنڈے لہرائے گئے، امن پسند قوتیں جب تحفظ ناموس رسالت کیلئے دھرنا دیں تو ان پر سنگین مقدمات، فورتھ شیڈول اور دیوار سے لگانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے، آئین و قانون کو محب وطن کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دو قومی نظریہ کے مخالفین اور پاکستان کو گالیاں دینے والوں کی اولادوں کو تحفظ دیا جاتا ہے یہ دوہرا معیار انتہائی خطرناک ہے، اہلسنت نے کبھی حکومت گرانے کی بات نہیں کی بلکہ ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کا مطالبہ کیا اور عوام کو ریلیف دینے مہنگائی، کرپشن ختم کرنے کیلئے سسٹم بہتر بنانا اور ترجیعات بدلنے کا مطالبہ کیا، لیکن اہلسنت کو ہر زاویئے سے دیوار سے لگایا گیا ہم سمجھتے ہیں حکومت اور قومی سلامتی کے ادارے محب وطن قوتوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کریں انشاء اللہ غربت کو ختم کرنے کی پوری صلاحیت اور ادروں کو بھرپور مستحکم کرینگے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

سندھ حکومت نے عید تعطیلات 4 سے کم کر کے 3 دن کر دیں، نیا نوٹیفکیشن جاری

کراچی، (ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے