اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نارویجن حکومت نے پاکستان کی جانب سے سخت رد عمل کے بعد قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلم ممالک کی جانب سے ناروے میں قرآن کو نذر آتش کرنے کے واقعہ پر شدید ردعمل پر وہاں کی حکومت بھی اقدامات پر مجبور ہو گئی ہے۔ ناریجن حکومت نے پولیس کو قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کے احکامات کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات کی روک تھام کو بھی لازمی قرار دے دیا ہے۔ ناروے کے پولیس چیف میڈیا نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی دوبارہ ہوئی تو پولیس اسےروکے گی، قرآن کی بے حرمتی نفرت انگیز تقریرسے متعلق کرمنل کوڈ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی تو پولیس مداخلت کرے گی، ہر کسی کواتنا ہی بولنا چاہیے کہ قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو، قرآن کی بے حرمتی سے انتقامی کارروائیوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پولیس احکامات کی خلاف ورزی پر کرسچن سینڈ میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر نے کہا کہ ناروے حکومت قرآن پاک کی بے حرمتی کو سختی سے نامنظور کرتی ہے۔ واضح رہے کہ تین روز قبل ناروے میں اسلام مخالف تنظیم سے تعلق رکھنے والےایک شخص نے ناروے کے کرستیان ساند شہر میں قرآن پاک کو جلانے کی کوشش کی تھی جس پر ایک مسلمان نوجوان عمر الیاس نے آگے بڑھ کے قرآن پاک کو جلانے کی کوشش کو روکا، جس پر نارویجن پولیس نے مسلم نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے نوجوان کی پذیرائی کی جارہی ہے اور اسے ہیرو قرار دیا جارہا ہے جبکہ نارویجن کی حکومت کے رویے کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی گزشتہ روز پاکستان میں تعینات ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے مذموم واقعے کی شدید مذمت اور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفیر کو باور کرایا گیا کہ واقعے سے دنیا بھر کے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، ناروے حکومت واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
![]()