کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) اولمپین اصلاح الدین نے خیانت مجرمانہ کی، کھلاڑیوں کی فلاح وبہبود کا پیسہ بینکوں میں سود کے لئے کیوں جمع کرایا گیا؟ 2014 میں اتنی خطیر رقم ایک کلب کو کس طرح جاری ہوئی اس معاملہ کی تحقیقات ہونا بھی ضروری ہیں، افسوس کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری شدہ گرانٹ سے سندھ میں ٹینلنٹ بنانے کی بجائے بینکوں میں رقوم جمع کروا کر سود بنایا جاتا رہا، رقم کی سود سمیت واپسی کا فیصلہ سندھ حکومت کا احسن اقدام ہے، آئیندہ کسی خائن کو گرانٹ جاری نہ کی جائے، تفصیلات کے مطابق کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے موجودہ چیئرمین اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکرٹری فنانس گلفراز احمد خان نے کہا کہ سندھ حکومت کا کھلاڑیوں کی بہتری کے لئے اولمپین اصلاح الدین، ایم اے شاہ ہاکی اکیڈمی کے نام پر جاری شدہ دو کروڑروپے کی خطیر رقم کو سود سمیت واپس لینے کا فیصلہ احسن اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ اولمپین اصلاح الدین، ایم اے شاہ ہاکی اکیڈمی کے چیئرمین اولمپین اصلاح الدین سندھ کے کھلاڑیوں کے نام پر حاصل کی گئی گرانٹ کو کھلاڑیوں پر خرچ کرنے اور نیا ٹیلنٹ بنانے کی بجائے بینک میں جمع کروا کر سود بناتے رہے جو کہ خیانت مجرمانہ ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ 2014 سے آج تک عرصۃ قریبا 6 چھ سال اس رقم کو خرچ کرنے کے بجائے چالاکی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے بینک میں جمع کرادیا گیا اور سود بنایا جاتا رہا، گلفراز احمد خان کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رقم کو خائن اور بد اعتماد ہاتھوں کی بجائے ایماندار افراد اور مستند طریقہ کار سے اصل حقداران تک پہنچایا جائے، سابق خازن پی ایچ ایف اور موجودہ چیئرمین کے ایچ اے گلفراز احمد خان نے کہا کہ حکومت سندھ اس معاملہ کی تحقیقات بھی کرے کہ اتنی خطیر گرانٹ ایک کلب کو کس طرح جاری کی گئی، انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ گرانٹ جاری کرنے والے ادارے نے 2014 سے آج تک اس معاملہ کی بابت کوئی آڈٹ یا تحقیقات کیوں نہیں کیں اور اگر ماضی میں تحقیقات شروع بھی ہوئی ہوں تو انکو منطقی انجام تک کن ہاتھوں نے پہنچنے نہیں دیا، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر پیسہ خرچ کیا اور صوبہ میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ٹیلنٹ کی پرورش کے لئے اہم اقدامات کئے، کراچی ہاکی ایسوسی ایشن نے بھی محدود وسائل کے باوجود پاکستان بھرمیں مثالی ایسوسی ایشن کے طورپر کام کیا، انہوں نے کہا افسوس کی بات یہ ہے کہ گرانٹ ایسے فرد کو جاری کی گئی جس کا ماضی ایسے معاملات میں اچھی شہرت کا حامل نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس گرانٹ کو کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے لئے جاری کیا گیا تھا لیکن اولمپین اصلاح الدین اس کو ذاتی صوابدید پر بینک میں جمع کراکر سود بنانے کے مرتکب ہوئے، سندھ حکومت کا رقم کا سود سمیت واپس لینے کا فیصلہ احسن اقدام ہے۔
![]()