تازہ ترین
Home / اہم خبریں / گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیر سکنڈری اسکول کراچی کی سابقہ جونئیر پرنسپل نے سیکریٹری تعلیم، ڈائیریکٹر ایجوکیشن اور ڈی ای او کے خلاف مہم شروع کردی۔ ذرائع

گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیر سکنڈری اسکول کراچی کی سابقہ جونئیر پرنسپل نے سیکریٹری تعلیم، ڈائیریکٹر ایجوکیشن اور ڈی ای او کے خلاف مہم شروع کردی۔ ذرائع

کراچی (نوپ نیوز) گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیرسکنڈری اسکول کی سابقہ جونئیر پرنسپل نشاط امین نے سیکریٹری تعلیم احسن منگی، ڈائیریکٹر ایجوکیشن حامد کریم اور ڈی ای او مرزا ارشد بیگ کے خلاف مہم شروع کردی، نشاط امین کا کہنا ہے کہ اسکول سےغیر قانونی طور پر حاصل کی جانیوالی رقم کا 60 فیصد حصہ ڈی ای او کو جاتا تھا۔ ڈائیریکٹر اور سیکریٹری مجھے معطل نہیں کرسکتے۔ اندھیر نگری چوپٹ راج اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق سابقہ جونئیر پرنسپل کی اجارہ داری، کرپشن اور غیر قانونی دھندوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے 8 سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو مرزا ارشد بیگ نے معطلی کے پروانے جاری کردیئے ہیں۔ نشاط امین نے 5 ہزار روپے دیکر گلی محلے کے بچوں سے ڈائیریکٹر ایجوکیشن کے دفتر میں احتجاج کرایا گیا، ذرائع کے مطابق مزید احتجاج کرانے کے لئے مختلف بچوں کو ورغلانہ شروع کر دیا ہے۔ نشاط امین کو غیر قانونی اقدامات پر اسکول سے نکال کر ڈائیریکٹریٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن محترمہ نےغیر قانونی طور پر اسکول کے پرنسپل آفس کو تالا لگا کر سیل کر رکھا ہے۔ نئی پرنسپل فرزانہ اکرم کو تاحال چارج نہیں مل سکا ہے، محکمہ تعلیم کے افسران خاتون نشاط امین کےخلاف مکمل بے بس ہوچکےہیں، نشاط امین کےخلاف محکمہ تعلیم کو درجنوں شکایتیں موصول ہوئیں جن میں گھوسٹ ملازمین کی سرپرستی کرنا، بائیو میٹرک سسٹم اور ٹیم سےغلط بیانی، طلباء سے غیر قانونی رقم کی وصولی اور اسٹاف کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی شکایات شامل تھیں، سیکریٹری تعلیم احسن منگی کے احکامات کے بعد ڈائیریکٹر اسکولز حامد کریم نے نشاط امین کوعہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن 8 روز گذرنے کے باوجود بھی نہ تو خاتون نے چارج چھوڑا ہے بلکہ پرنسپل آفس کو تالا لگا کرسیل بھی کر دیا ہے، نئی تعینات کی گئی پرنسپل فرزانہ اکرم جب چارج لینے پہنچی تو انھیں بند کمرے اور تالے کا سامنا کرنا پڑا جونئیر پرنسپل نشاط امین نے سیکریٹری تعلیم آفس کے کچھ افسران کو دوبارہ پوسٹنگ حاصل کرنے کے لئے بھاری رشوت کی پیشکش کی، جبکہ چیف سیکریٹری آفس جاکر بھی بعض لوگوں کو دوبارہ چارج دلوانے کے لئے رشوت کی پیشکش کی گئی، نشاط امین نےسیاسی اثر و رسوخ بھی استعمال کرنا شروع کردیئےہیں۔ نشاط امین کی اجارہ داری اور کرپشن سمیت غیر قانونی کام بےنقاب کرنیوالے 8 سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ڈی ای او مرزا ارشد بیگ نےغیر قانونی طور پر معطلی کے پروانے جاری کردیئے ہیں، چند ہفتوں قبل اسکول میں مسائل کے انبار پر اساتذہ نے محکمہ تعلیم کو درجنوں شکایتیں کیں لیکن انکوائری سرد خانےکی نذر کردی گئی تھی، اساتذہ کے مطابق اسکول مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں غیر متعلقہ افراد کی آمد کا سلسلہ بھی رہتا تھا ساتھ ہی چار اساتذہ اور دو اسٹاف پر مشتمل عملہ بغیر ایس این ای لئے تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ لیبارٹری اسسٹنٹ معظم سعید دو سالوں سے ڈیوٹی سےغیر حاضر ہیں لیکن تنخواہ جاری ہے ان تمام افراد کو نشاط امین کی سرپرستی حاصل ہے اسکول انتظامیہ نے سرکاری ٹیچر کی تنخؤاہ رکواکر پرائیویٹ اساتذہ کو پڑھانے کے لئے رکھ لیا ہے پرائیویٹ اساتذہ کی تنخواہ کہاں سےآتی ہے؟ کوئی ریکارڈ یا بجٹ موجود نہیں ہے جونئیر پرنسپل نشاط امین کے حوالے سے اسٹاف نے مزید شکایت کی کہ اسٹاف کی ویڈیو بناتی رہتی ہیں اور انھیں حراساں کیا جاتا ہے اسکول کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ شدید اذیت میں مبتلاء ہے، پرنسپل کی سرپرستی میں اسکول کے کیمسٹری لیب کو ختم کرکے ذاتی جگہ بنالیا گیا ہے جبکہ اسٹاف کے بیٹھنے کا کمرہ بھی ذاتی استعمال میں لے لیا ہے اسکول کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے درخواست کی ہے کہ تعلیمی ادارے کی ساکھ کو بچانے میں کردار ادا کریں، بغیر ایس این ای تنخواہیں وصول کرنیوالوں میں ڈائیریکٹر فزیکل ایجوکیشن، شاہانہ پروین، عربی ٹیچر، ارشاد حسین، مجاہدالاسلام کی پوسٹ یہاں موجودہ ہی نہیں عربی ٹیچر اعجاز حسین، ورکشاپ کلی، یوسف اور کلینر راشد کی بھی پوسٹ کمپری ہینسیو اسکول میں نہیں جونئیر پرنسپل نشاط امین کےخلاف آنیوالی درجنوں شکایتیں محکمہ تعلیم نے سرد خانے کی نذر کردی ہیں اساتذہ نے نیب اور اینٹی کرپشن سے اسکول کے معاملات کی دوبارہ انکوائری کرنے کا پر زور مطالبہ کردیا ہے نشاط امین نے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرنے شروع کردئیے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

آئی بی اے اور آئی او بی ایم ایچ ای سی باسکٹ بال چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئے

کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین/ اسپورٹس رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے