Home / اہم خبریں / موجودہ ناکام اور پریشان کن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بیروزگار نوجوان مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔ طارق چاندی والا

موجودہ ناکام اور پریشان کن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بیروزگار نوجوان مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔ طارق چاندی والا

کراچی ( رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کراچی کے ان گنت مسائل میں سب سے اہم مسئلہ بیروزگاری ہے۔ موجودہ ناکام اور پریشان کن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بیروزگار نوجوان مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ سمیٹ کر کراچی کو خیر باد کہنا شروع کر دیا ہے، حکومت متوسط طبقے کو ختم کر کے طبقاتی نطام لانا چاہتی ہے۔ حکومت احمقوں کی جنت سے نکل آئے، تاجروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرے اور مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ کسی بھی ملک کو استحکام دینے میں اس ملک کی معیشت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور سرمایہ کار اس ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی سرمایہ کار اس وقت تک اس ضمن میں کلیدی کردار ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ حکمران ان کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آسانیاں نہ پیدا کریں۔ کراچی شہر پاکستان کا معاشی حب تصور کیا جاتا ہے اور باقی ملک کواس شہر سے  70 یا 75 فیصد ریونیو میسرہوتا ہے وہ اب اضطرابی کیفیت کا شکار نظر آتا ہے۔ چند سیاسی جماعتوں کے مفاد کی خاطر پچھلی کچھ دہائیوں سے کراچی شہر بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ کچھ قوتوں نے صنعت کاروں کو ماہانہ لاکھوں روپے بھتے کی پرچیاں بھیج کر انہیں یرغمال بنائے رکھا پھر حکومتی ناقص پالیسیون نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ اس صورتحال سے مایوس ہو کر زیادہ تر صنعت کاروں نے یہاں سے ہجرت کر جانے میں عافیت جانی۔ کوئی پنجاب کی جانب بھاگا تو کسی نے بنگلہ دیش یا پھر گلف ممالک کا رخ کیا۔ اس سے نقصان کسی اور کوئی نہیں پاکستان کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کا ہوا۔ کیوں کہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ ساتھ ہنر مند افراد بھی بے روزگار ہوئے اور بعدازاں مسلسل کوششوں کے بھی جب ان پر روزگار کے در بند ہوگئے تو انہوں نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اخراجات کی تکمیل کے لئے جرائم کی راہ اختیار کی۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والا نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اب کافی عرصے سے اگر چہ بھتہ مافیا کی کمر ٹوٹ چکی ہے مگرموجودہ حکومت نے سابقہ حکومتوں کی جانب سے کرپشن کئے جانے کے بعد سرکاری خزانہ خالی ہونے کا راگ الاپنے کے بعد پکڑ دھکڑ کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بھرمار کرکے ان ہی صنعت کاروں کے ساتھ ساتھ ایک عام انسان کی بھی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جس سے بچے کچے سرمایہ کاروں نے اپنی صنعتیں بند کرنا شروع کر دی ہیں۔ ایک بار پھر بے روزگاری کا سیلاب امڈ آیا ہے اور دلبرداشتہ نوجوانوں نے ایک بار پھر نقب زنی، رہزنی اور نشے کی راہ اپنائی ہے۔ ایک دم سے ٹیکسز کی مد میں پڑجانے والے بوجھ نے درحقیقت نہ صرف غریب طبقے بلکہ ہر شہری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تاجروں اور دکانداروں نے مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ کردیا۔ یہاں تک روزمرہ کی اشیائے خورد و نوش بھی عام انسان کی دسترس سے مزید باہر ہوتی جا رہی ہیں جس سے جرائم کی شر ح میں اضافہ ہونا ایک فطری عمل ہے۔ موجودہ حکومت بے روزگاروں کو چھوٹے کاروبار کے لئے آسانی شرائط پر قرضے فراہم کرنے کی باتیں تو کر رہی ہے مگرایک دم سے اس پر عمل کرنا مشکل ترین امر ہے کیوں کہ 25 کروڑ کی آبادی والے ملک میں حکومت کتنے لوگوں کو قرضے فراہم کر سکتی ہے؟ موجودہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پرنظر ثانی کرتے ہوئے کاروباری حضرات پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں کام کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہئے، بے روزگار نوجوانو ں کو زیاد سے زیادہ روزگار کے مواقع دیں تا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح پر قابو پایا جاسکے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے