کراچی ( رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (SPARC) نے بچوں پر تمباکو نوشی کے اثرات پر ایک میڈیا ورک شاپ کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں اس عزم کے ساتھ کہ کام کرنے والے صحافیوں اور رپورٹروں کے مابین آگہی پیدا کرتے ہوئے کراچی کو تمباکو نوشی سے پاک صاف شہر بنائیں گے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان 15 ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے۔ غیر سرکاری تنظیم ’نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ با آسانی دستیاب ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے کاشف مرزا نے تمباکو اور تمباکو نوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس 2002 پر حقائق فراہم کئے جس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کو عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور 18 سال سے کم عمر افراد پر سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کوئی شکایت درج نہیں کی جاتی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں کام کی جگہ سگریٹ نوشی کرنے والے فرد کے ساتھ دیگر افراد بھی یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور خواتین تمباکو کی صنعت کے بنیادی ہدف ہیں کیونکہ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق اس وقت 13.3 فیصد لڑکے اور 6.6 فیصد لڑکیاں (جن کی عمریں 13 سے 15 سال ہیں) تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 160,000 افراد پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی سے ملحقہ بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تقریباً 40,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ SPARC جلد ہی ایک دوسری نشست کا اہتمام کرے گی جس میں اس کے مالی نقصانات کے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔ ”تھرڈ ٹائر (تمباکو پر کم ٹیکسز) کے تعارف کے بعد 2016 سے 2019 تک قومی آمدنی کو 77.85 بلین روپے کا نقصان ہوچکا ہے میڈیا ورک شاپ پروگرام میں امتیاز خان فاران صدر کراچی پریس کلب نے میڈیا کے کردار اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ میڈیا تبدیلی کا ذریعہ ہے اور میڈیا نے حالیہ دنوں میں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی عادت کے متعلق انہوں نے بتایا کہ نشہ کی ابتدا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے۔ انہوں نے انسداد تمباکو نوشی مہم کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا جس سے اسکولوں اور کالجوں میں صحت کے خطرات کم ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ صحت مند طرز زندگی کے لئے بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ اچھی صحت کے لئے تمباکوشی کی عادت کو کم کریں اور صحت پر اٹھنے والے سرکاری اخراجات کو کم کریں انہوں نے قانون کے نفاذ میں اپنے تعاون کا یقین دلایا کراچی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے بتایا کہ نکوٹین کے علاوہ بھی سگریٹ میں بہت سے مضر اجزاء ہیں اس میں 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں جس میں 50 کے متعلق پتا چلا ہے کہ وہ مضر نوعیت کے ہیں، مثال کے طور پر اس میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتا ہے جو کہ کار سے خارج ہونے والے دھویں میں ہوتا ہے، بیوٹین لائٹر کے پانی میں شامل ہوتا ہے اور آرسینک، امونیا اور میتھانول راکٹ کے ایندھن میں استعمال ہوتے ہیں۔ ایک نوعمر بچے کا دماغ جو کہ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے اسی دوران نکوٹین کا استعمال اس کو متاثر کرتا ہے اور نوجوانوں کے بچپن کے دوران دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت میں تبدیلی آتی ہے جس سے وہ زندگی بھر نشہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ان کے رویوں اور رجحانات پر دوررس مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں تمباکو نوشی کئی ایک خطرناک رویوں کا باعث ہے۔ سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی مینیجر شمع وحید نے اختتامی نشست میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ہم سماجی مسائل اور حقائق پر مبنی رپورٹس کے لئے مزید نشستیں میڈیا کے ساتھ منعقد کریں گے اور قانون ساز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درست کارروائی کے لئے زور ڈالیں گے۔ آگہی پروگرام میں صحافیوں اور رپورٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔