راجن پور (رپورٹ: انعام باری) نبی اکرم ؐ کا اسوہ حسنہ میں ہی پوری کائنات کی انسانیت کی فلاح و بہبود ہے آج کے اس دورِ جدید میں ہم نے مادی وسائل پر زیادہ توجہ دیکر نبی اکرم ؐ کی تعلیمات، آپ ؐ کا اسوہ حسنہ، اخلاقِ کریمہ، معاملات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہمیں پستی و شرمناکی کی سی صورت حاصل ہے اگر ہم سب مسلمان آپ ؐ کی زندگی کو اپنا لیں تو پوری دنیا میں حکمرانی و کامرانی حاصل کر سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار محمد ی جامع مسجد و مدرسہ عالیہ فیض القرآن میں 56 واں تین روزہ سالانہ جلسہ سیرت النبی ؐ سے مولانا مفتی خالد محمود، مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا سید محمد شاہ، مولانا ابوبکر عبداللہ و دیگر نے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے پر آشوب و پر فتن دور کے درپیش سنگین چیلنجز و بحرانوں کا حل اور خصوصا سماجی برائیوں کا تدارک و خاتمہ آقائے دوجہاں حضور پر نو ررحمت اللعالمین محمد مصطفیؐ کی سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے و فرمودات عالیشان کی پیروی میں ہی مضمر ہے قرآن مجید مکمل ضابطہ حیات و کتاب ہدایت جس میں زندگی کا مکمل آئین مرتب کر دیا گیا ہے اور ہم روز اول سے لیکر روزِ محشر تک درپیش تمام مسائل کا حل اس کتاب مبین سے حاصل کر سکتے ہیں جو کہ نجات او رفلاح کا سیدھا راستہ ہے انہوں نے کہا کہ مساجد و مدارس امن کے مراکز و گہوارہ ہیں جہاں سے نوجوان نسل تشنگی علم بجھار ہی ہے انہوں نے کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید و پر زور مذمت کی اور شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی آخر میں ملکی سلامتی و خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر مولانا سید اکبر شاہ بخاری، صاحبزادہ قاری عبداللطیف، مولانا عبدالمجید ساقی، حاجی محمد انور قریشی، قاری محمد صادق چانگ، قاری عبدالقدیر، مولانا اسلم سلمی ،مولانا یوسف صدیق، مولانا عبدالحی عابد، مولانا قاضی انعام باری، مولانا عبدالسلام مدثر، مولانا محمد بلال، قاری مظہر حسین، ابرار حسین قریشی، محمد راشد بھٹہ، قاری اللہ رکھا، حافظ عبدالقیوم، محمد صادق سابقی سمیت دیگر موجود تھے۔
![]()