کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج، ہر کسی کے لیے ہر جگہ، کا کامیابی سے انعقاد، رکن پارلیمنٹ نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ صحت عوام کا بنیادی حق ہے لیکن ہمارا آئین اس معاملے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ان خیالات کا اظہار رکن پارلیمنٹ نفیسہ شاہ نے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں منعقد کی جانے والی صوبے کی پہلی ہیلتھ کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔ان کاکہنا تھا کہ شعبہ صحت میں ابھی بھی بہت سے شعبوں میں مزید کام درکار ہے اور ہم لوگ صحت کے مسئلے پر چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور رکن سندھ اسمبلی ان کو لگتا ہے کہ انھیں اس شعبے پر مزید توجہ دینی چاہیے۔ ہیلتھ کانفرنس جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کامیابی سے منعقد کی گئی ۔کانفرنس کا مقصد عمومی طور پر لوگوں میں عوامی صحت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا کانفرنس میں ماہر طبیعات ڈاکٹر پرویز ہود بھائی،معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بھی مختلف سیشنز سے خطاب کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے اپنے لیکچر میں ہیلتھ سائنسز کے سلسلے میں قومی ترجیحات اور مستقبل کا لائحہ عمل کے حوالے سے مفصل گفتگو کی اور کئی نئی تجاویز بھی دیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اگر اس س حوالے سے توجہ نہ دی گئی تو وہ وقت دور نہیں کہ ملک میں پانی کی قلت ہوجائے گی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے ،ملک میں نئے میڈیکل کالجوں کا قیام قابل قدر ہے تاہم معیار تعلیم بھی بہتر ہونا چاہیے ۔۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس موقع پر ماں اور بچے کی صحت اور اس کے معاشی اثرات پر گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے غزائی عدم تحفط کا شکار ہیں ،پوش علاقوں میں جہاں امیر لوگ ہوٹلوں میں ٹیبل کے انتظار میں لائن لگاتے ہیں وہیں ٖریب غربا کی لائن رات دو بجے کے بعد دیکھی جاسکتی ہے ۔ایسے حالات میں ملک کیسے اور کیونکر ترقی کرسکتا ہے ۔صبح نو بجے سے شام چار بجے تک جاری رہنے والی کانفرنس میں بیک وقت آٹھ سیشنز ہوئے، جن میں ملک کے مایہ ناز ڈاکٹرز نے مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ستر سے زائد تحقیقی مقالے بھی پیش کیے گئے۔ ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر سید محمد طارق رفیع کا کہنا تھا کہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا عزم عوامی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہویت ترقی کی منازل طے کرنا ہے۔ اپنا انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے قیام کا مقصد پبلک ہیلتھ کے شعبے میں خدمات انجام دینا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے امدادی ٹیمیں تھرپارکر اور ڈیپلو میں دودھ کے ڈبے تقسیم کرنے نہیں جاتیں بلکہ ہمارا مقصد ان علاقوں میں تربیتی پروگرام شروع کرکے دوررس نتائج حاسل کرنا ہوتو ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھکہ کوئی بھی پروگرام حکومتی سرپرستی کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر لبنی بیگ کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد پبلک ہیلتھ کے شعبے میں دنیا بھر میں ہونے والی تحقیقات کا تبادلہ تھا تاکہ صوبہ سندھ میں اس حوالے سے ہونے والا کام دنیا کے سامنے آئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسل ہلتھ کیئر کا حدف حاصل کرمے کے لیے ضروری ہے کہ صوبے بھر کے متعلقہ لوگ ہیلتھ کیئر کے شعبے میں دلچسپی لیں۔
![]()