ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ میں سینکڑوں کی تعداد میں مشتعل طلبہ نے مظاہرے کیے، ایک بس کو آگ لگا دی اور کئی سڑکوں کو احتجاجا بند رکھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں کی وجہ ایک ایسے طالب علم کی موت بنی تھی، جسے ایک بس نے کچل دیا تھا۔ گزشتہ برس اگست میں بھی ڈھاکا میں ہزارہا طلبہ کی طرف سے اس وقت کئی دنوں تک پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے، جب اسی طرح دو نوجوان طلبہ ایک تیز رفتار بس کے نیچے کچلے جانے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے گزشتہ برس بھی گنجان آباد شہر ڈھاکا میں ایک بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر ماردی، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق ٹریفک حادثے میں بس ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ نوجوان کی ہلاکت کے بعد مظاہرین نے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج کردیا اور پرتشدد مظاہروں میں 317 بسیں نذرآتش جبکہ 51 افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ایک نجی بس نے کالج کے طالب علم کو ٹکر ماری تھی، جس کے بعد سے ہزاروں طلباء لاپرواہ بس ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ دوسری جانب اس سارے معاملے پر بنگلہ دیشی وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے طلباء کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں قانون کا مسودہ پیش کیا جائے گا‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمیں ڈر ہے کہ یہ تحریک پرتشدد ہوسکتی ہے کیونکہ یہ حکومت کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہے لیکن ہم نابالغوں کواکسانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے‘ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ثبوت ہے کہ اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے اپنی طلبہ تنظیم کے کارکنان کو ان مظاہرین کے ساتھ ملنے کا کہا تھا لیکن میں والدین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو اس احتجاج سے دور رکھیں۔
![]()