ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) آئی جی خیبر پختونخوا نعیم خان نے کے پی پولیس کے ہیرو عنایت اللہ ٹائیگر کی نئی مصنوعی ٹانگ کی خریداری کے لئے دو لاکھ 75 ہزار روپے فراہم کردیئے۔ جس پر عنایت اللہ ٹائیگر نے پختونخوا پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے اور پہلے سے بڑھ کر جانفشانی اوردلیری سے خدمامت سر انجام دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بم ڈسپوزل اسکوڈ کے بہادر اہلکار عنایت اللہ خان المعروف ٹائیگر کی دو بارہ نئی مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی ہے، قومی ہیرو ٹائیگر نے 2014ء میں بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے اپنی ٹانگ گنوا دی تھی۔ جس پر انہیں اپنے خرچ پر اسلام آباد میں انتہائی مہنگی مصنوعی ٹانگ لگائی گئی تاہم مصنوعی ٹانگ کی پانچ سالہ مدت رواں سال ختم ہونے پر آئی جی خیبر پختونخوا نعیم خان نے ان کے لئے نئی مصنوعی ٹانگ کی خریداری کے لئے دو لاکھ 75 روپے فراہم کردیئے جس سے انہیں دوبارہ نئی مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پختونخوا پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے اور پہلے سے بڑھ کر جانفشانی اور دلیری سے خدمامت سر انجام دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عنایت اللہ خان ٹائیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1998ء میں کے پی پولیس میں بھرتی ہوئے تھے، دوسروں کی جان بچانا اس کا مشن ہے۔ 7 مرتبہ بموں اور خودکش جیکٹس کو ناکارہ بناتے ہوئے زخمی ہو چکے ہیں لیکن ہمت نہیں ہاری، 2014ء میں ٹانگ بھی بارودی سرنگ کو ناکارہ بناتے ہوئے اڑ گئی لیکن آج مصنوعی ٹانگ کے ذریعے وطن عزیز کے دفاع میں برسرپیکار ہوں۔ ٹائیگر کا کہنا تھا کہ وہ 2014ء سے 2019ء تک مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اب تک 82 بم ناکارہ بنا چکا ہے جن میں ٹائم بم، اینٹی پرسنل مائنز اور دیگر بارودی مواد شامل ہے۔ ٹائیگر نے کہا کہ 2007ء میں ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن چوکی پرحملہ کرنے والے خودکش حملہ آورکا سامنا کرتے ہوئے اس کی بارود سے بھری جیکٹ کو اس نے ناکارہ بنایا تھا جبکہ 2011ء میں لاٹو فقیر مسجد میں حملہ کرنے والے خود کش حملہ آور کی جیکٹ بھی ناکارہ بنائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بی ڈی یو کی ٹریننگ کے لئے بیرون ملک بھی جاچکے ہیں۔ انہیں 2015 میں تمغہ شجاعت سے بھی نوازا گیا تھا۔
![]()