میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین حادثے کو 11 سال بیت گئے دنیا میں دہشتگرد اور انتہا پسند ملک کے طور پر پہچانے جانے والے بھارت نے اس سانحے میں دہشتگردی کے شکار افراد کے اہل خانہ کے ساتھ نہ انصاف کر سکا اور نہ ہی سانحے میں جانبحق ہونے والے مسافروں کو اعلان کردہ دس لاکھ روپے بھارتی فی شخص رقم کی ادائیگی کر سکا۔ اس سانحے میں 68 مسافر دہشتگردی کا شکار ہوئے تھے جس میں میرپورخاص کے ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل تھے۔ سانحے میں میرپورخاص کے علاقے کھار پاڑا کا رہائشی فتح محمد عرف پیر جی انکی اہلیہ رئیسہ بیگم دو بیٹیاں عائشہ اور صاحبہ بم دھماکے میں شہید ہوگئے تھے جبکہ دو بھائی مضمد شکیل اور محمد ندیم شدید زخمی ہوگئے تھے جس میں محمد ندیم ٹانگ سے معزور ہوگیا تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں ماں باب دو بہنیں کھونے والے واقعے میں خود زخمی والے بھائیوں نے بتایا کہ بھارتی انتہا پسندوں نے انکا گھر اجاڑ دیا ہے اور کمزور کیس کے باّعث اس دہشتگردی میں ملوث بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے گرفتار رہنماؤں کمال چوہان، سوامی آسیم آنند، رام چندرا عرف رام جی، لوکیش شرما اور دیگر ضمانت پر رہا کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا بھارتی سپریم کورٹ میں اس کیس کا فیصلہ آنا ہے امید ہے بھارتی سپریم کورٹ انکے والدین بہنوں سمیت 68 مسافروں کی جانیں لینے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہچائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رقم انکو نہیں چاہئے ہم صرف انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں بھارت میں مسلم اقلیتوں پر ظلم بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انکے ماں، باپ اور بہنوں کی قبروں کی نشاندہی اور ان تک رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
![]()