میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) مقامی صحافیوں پر تشدد اور دھمکیاں دینے پر پولیس کی جانب سے اقدامات نہ کرنے پر سینکڑوں صحافیوں نے آج پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی شدید مذمت کی اور وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی میرپورخاص سے معاملے کی تحقیقات کروا کر ملوث لینڈ مافیا کے مسلح افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ مختلف میڈیا سینٹروں اور پریس کلبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں صحافیوں اور فوٹو گرافروں نے اسٹیشن چوک سے پوسٹ آفس چوک تک احتجاجی ریلی نکالی جس میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے عہدیداروں اور رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین میں مولانا مفتی شریف سعیدی، آفتاب قریشی، سنی تحریک کے رہنماء التماس صابری، شاکر حسین شاکر، واجد علی لغاری، فیصل زئی، شہری اتحاد کے روشن کھٹیان، رکشہ یونین کے عباس شاہ اور صحافیوں میں سلیم شعاعی، طاہر ملک، طلعت شیخ، فلک شیر، سلیم شیخ، ایم اے چانڈیو، امید علی لغاری، خدا بخش چوہان، عبیداللہ کوری، پرویز غوری، شاہزیب خاصخیلی، راحیل سموں، شاہد آفریدی، عدنان ملک، اویس ملک، نادر یوسف زئی، بختیار شاہ، قمرالدین شیخ، رام چند لال، اور کونسلر عاشق علی نیلگر نے شرکت کی، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماء آفتاب قریشی نے ضلعی انتظامیہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام صحافیوں کو تحفظ فراہم کرکے ملوث ملزمان کو لاک اپ کیا جائے۔ مفتی شریف سعیدی نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ سنی تحریک کے التماس قادری صابر نے صحافیوں وسیم خانزادہ، وارث خاصخیلی، بختیار شاہ، دانش، نادر یوسف زئی و دیگر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کرکے مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ شاکر حسین شاکر نے انتظامیہ پر زور دیا کہ فوری طور پر تحقیقات کرکے ملزمان کو گرفتار کریں اور صحافیوں کو انصاف فراہم کریں۔ سماجی کارکن واحد لغاری نے کہا کہ غیر قانونی دکانیں تعمیر کرنے والے محکمہ اوقاف کی زمین پر قبضہ کرنے والو ں کو گرفتار کرکے سخت سزاد دی جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ قمرالدین شیخ، سید بختیار شاہ، سلیم شعاعی، نادر یوسف زئی، وسیم خانزادہ، سہیل احمد خان، شاہد آفریدی، سید دانش علی، قربان ارباب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں شہید ہونے والے محراب پور کے صحافی عزیز میمن کی روح کو ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
![]()