Home / اہم خبریں / احساس پروگرام، کامیاب جوان، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، ماڈل لنگر خانے، پناہ گاہ پروگرام، ماحولیاتی تحفظ، بلین ٹری سونامی، بہتر خارجہ پالیسی، اقلیتوں کیلئے اقدامات وفاقی حکومت کی کامیابی ہے۔ حلیم عادل شیخ

احساس پروگرام، کامیاب جوان، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم، ماڈل لنگر خانے، پناہ گاہ پروگرام، ماحولیاتی تحفظ، بلین ٹری سونامی، بہتر خارجہ پالیسی، اقلیتوں کیلئے اقدامات وفاقی حکومت کی کامیابی ہے۔ حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی علی عزیزجی جی و دیگر بھی شریک۔ حلیم عادل شیخ نے کہا موجودہ حکومت نے 30 سالوں کے گند کو صاف کیا ہے گزشتہ دس سالوں کی کرپشن کا مقابلہ کرتے ہوئے بھنور میں پھنسی کشتی کو عمران خان نے باہر نکالا ہے اس قوم کے مستقبل کے لئے عمران خان نے سخت فیصلے کئے لیکن ملک کو اپنی ڈگر پر ڈالا۔ ایک ڈس انفارمیشن فیکٹری ہمارے خلاف کام کر رہی ہے۔ عمران خان نے کہا نوکریوں کے ساتھ ساتھ کاروبار کے مواقع پید کر رہے ہیں ٹرانسپریسی انٹرنینشل کا ایک ڈھونگ رچایا گیا کہا گیا کرپشن بڑھ گئی، میڈیا نے ریسچرز کرکے دکھایا کہ پاکستان آگے جارہا ہے رپورٹ غلط ثابت ہوئی۔ان چوروں کے لئے کوئی راستہ نہیں جنہوں نے ملک کو لوٹا کسی نے چودھری شگر مل کے ذریعے کرپشن کی تو کسی نے اومنی اور جعلی اکاؤنٹ پاکستان میں 100 ارب روپے نوجوانوں کو قرضے دینے کے لئے رکھے گئے ہیں یہ لون کسی جعلی بنک اکاؤنٹ کے باہر نہیں جائے گا نوجوانوں کو دیا جائیگا اس میں کسی کی بھی سفارش نہیں چلتی 30 ارب روپے سے اسکیل ڈویلپمنٹ کے پروگرام شروع کر دیئے جاچکے ہیں 190 ارب احساس پروگرام کے لئے مختص ہیں سارے غریبوں کو دیئے جائیں گے 70 لاکھ نادار خواتین کو کفالت کارڈ دیئے جارہے ہیں اس کارڈ پر کسی سیاسی رہنما کی تصویر نہیں ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہے یہ ٹیکس کا پیسہ ہوتا ہے اس میں بھی ووٹ کی لالچ کو رکھا گیا تھا بینیظیر کی تصویر لگائی اچھا کیا تھا ان کا دور تھا میاں صاحب نے اپنی تصویر کیوں لگوائی تھی عمران خان نے اپنی تصویر نہیں لگوائی ہے اگر پیپلز پارٹی کو تکلیف ہے تو اپنی پیسوں سے کارڈ جاری کریں سندھ میں بینظیر بھٹو کے صدقے میں حکومت ملی ہے ان کا صدقہ میں کارڈ جاری کر دیں عوام کو دیں چالیس لاکھ بینظیر انکم سپورٹ کی خواتین بھی اس پروگرام میں شامل ہیں 15 ماہ میں ہم نے وہ کیا ہے جو انہوں نے 30 سالوں میں نہیں کیا موجود مہنگائی دس سالوں میں لئے گئے قرضوں اور کرپشن کی وجہ سے ہے۔ اس وقت بین الاقوامی ادارے معیشت پر اعتماد کر رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 236 فیصد اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ نے گزشتہ 3 ماہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، موڈیز نے پاکستان کی رینکنگ کو منفی سے مستحکم قرار دیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال 35 فیصد اور ابھی 5 ماہ میں بھی مزید کم ہوا، 5 ماہ میں مالی خسارہ پہلی بار سرپلس میں آیا، 5 ماہ میں تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے ریونیو وصولیاں، سرمایہ کاری اور ریمی ٹینس بڑھی ہیں، اے ڈی بی نے اسی بہتری پر اپنے پروگرام میں 3 ارب ڈالر اضافہ کیا ہے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم غریبوں کے لئے بن رہی ہے ماڈل لنگر خانہ احساس سیلانی لنگر اسکیم کے تحت روزانہ سیکڑوں افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ غریبوں کے لئے کچھ کیا جاتا ہے تو مذاق اڑایا جاتا ہے ان کو کیا پتہ غریب کی بھوک کس طرح کی ہوتی ہے وزیراعظم نے گلیوں، بازاروں اور پارکوں میں کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور افراد کے لئے پناہ گاہ کا تصور پیش کیا جس کے کیلئے اہم مقامات پر پناہ گاہیں مہیا کی گئیں۔ بلاول زرداری، نواز شریف ایک رات سڑک پر گذار کر دکھائیں تو پتہ چلے گا تحریکِ انصاف کی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے تحفظ کے لیے شجر کاری کو ضروری قرار دیا گیا۔ عالمی بون چیلنج میں پاکستان کی جانب سے 10 ارب درخت لگانے کی مہم کے ذریعے جنگلات کی بحالی کو شروع کر دیا جاچکا ہے کلین اینڈ گرین انڈیکس پاکستان کا اپنا ماحولیاتی معیار ہے جس کے تحت کسی بھی شہر کو ماحول کے اعتبار سے محفوظ کیا جاسکے گا، خارجہ پالیسی کے لحاظ سے بھی تحریک انصاف حکومت نے کامیابی حاصل کی ایران، امریکا، چین اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے اور اس کامیابی کا سہرہ بھی موجودہ حکومت کے سر سجتا ہے۔ پاک چین دوستی کو ایک نیا رُخ عطا کیا گیا اور سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو بھی شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مسلم برادر ملک ترکی سے بھی تعلقات ایک نئی سطح پر دکھائی دئیے۔ کرتاپور راہداری ایک بہت بڑا قدم تھا دنیا بھر میں میسیج دیا گیا کہ انڈیا میں اقلیتوں کے لئے کیا کیا جارہا ہے پاکستان میں اقلیتوں کو حقوق دیئے جارہے ہیں پاکستان میں امن کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے جوکہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔ پی آئی اے بند ہوتی جارہی تھی جس کو امریکا کے لئے براہ راست فلاٹ چلانے کی اجازت مل گئی ہے برطانیہ اور متعدد دیگر ممالک کے بعد اب امریکا نے بھی پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً اسلام آباد میں بہتر سیکیورٹی صورتحال کو تسلیم کرلیا ہے۔ ایڈوائزی میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کیا گیا، نئی امریکی ٹریول ایڈوائزری صحیح سمت میں مثبت قدم ہے۔ سندھ میں 14 کروڑ کی گندم رکھنے کے لئے 36 کروڑ کرایہ ادا کیا گیا یہ پالیسی ہے سندھ حکومت کی دس سالوں تک یہ پیسہ کہاں جاتا رہا ہے بلاول عوام کو بتائیں گھوٹکی سے آتے آتے گندم چوری ہوجاتی ہے کراچی تک نہیں پہنچتی سندھ کا حشر جو آج ہے اس کے ذمہ دار پیپلز پارٹی کی حکومت ہے سندھ اسمبلی میں مراد علی شاہ یہ بل پاس کروا دیں کہ کہ آپ کے خلاف جو آواز اٹھائے ان کو پھانسی لگوا دیں اسی صورت میں آپ ہماری آواز بند کروا سکتے ہیں آج کی تاریخ تک صوبائی متحسب کو لگانے کا اختیار گورنر کے پاس ہے آئین کے آرٹیکل 234-235 گورنر کو مکمل اختیار حاصل ہے بوریا بستر گول کرنے کا لیکن ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں نہ کوئی گورنر راج لگنے کی حمایت میں ہیں سندھ میں سیاسی کیس بنائے جارہے ہیں، مجھ پر عمرکوٹ پولیس نے ٹھیلے والے کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا میں تو تیزگام سانحے کی شہداء کی نماز جنازہ ادا کرنے گیا تھا ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کے فارم پر بھی قبضہ کر لیا جاتا ہے عمرکوٹ سمیت پورے سندھ میں ہمارے کارکنوں کو زد کوب کیا جارہا ہے پولیس کے ذریعے پی ٹی آئی کے لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے اعجاز جھاکرانی کے ساتھ کرپشن کرنے پر ان کے گھر کو سب جیل بنا دیا گیا اندھیر نگری چوپٹ راج سندھ میں چل رہا ہے وزیر اعلیٰ صاحب نے خط لکھا ہے کہ گورنر سے بات نہیں کریں گےسندھ میں بڑی شکایات ہیں کوئی ایسا افسر نہیں آئیگا جو عوام کے مخالف ہو ڈپٹی کمشنرز کو کچھ اضلاع ٹھیکوں پر دیئے گئے ہیں جس پر بھی چارج شیٹ تیار کر رہے ہیں ڈی ایم جی افسران کی بھی لسٹ بنا رہے ہیں جو ان کی کمداری کر ر ہے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو کہتے ہیں روٹیشن پالیسی پر مکمل عمل کروایا جائے جو افسران کئی سالوں سے سندھ میں بیٹھے ہیں ان کو گلگت بلتستان بھیجا جائے یہاں عدالتیں آزاد ہیں ادارے فری ہیں اپنے کام کر رہے ہیں ہماری حکومت نے دس ارب ڈالر قرضہ لیکر واپس کیا ہے اگر ہم قرضے لیتے تو پاکستان کے حالات خراب ہوتے آئی جی معاملے کا ڈراپ سین ہوچکا ہے سندھ حکومت نے تو 17 تاریخ کو کہا تھا کہ آرڈر نکل رہا ہے ابھی تک کوئی آرڈر نہیں نکلا ہے آئی جی کا معاملہ قانون رولز اور اصولوں کے تحت حل کیا جائیگا آئی جی کلیم امام کہیں نہیں جارہے یہیں بیٹھے ہیں، فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مراد علی شاہ کو لیگل نوٹس دیا ہے مراد علی شاہ نے خط لکھ کر توہین عدالت کا کام کیا ہے ایڈیشنل جنرل نے کورٹ میں کچھ کہا اور وفاق سے کچھ کہا مراد علی شاہ نے دوبارہ خط لکھا ہے کہ دیگر صوبوں کے معاملات کو کیبینٹ میں نہیں بھیجا گیا سندھ کے معاملے کو کیوں کیبینٹ میں بھیجا کیا مراد علی شاہ بتائیں کیا دوسرے صوبوں نے اپنے مسائل کیبینیٹ میں لے گئے؟ آپ کیوں لیکر گئے کل اخبارات تو میں خبریں لگیں تھیں کہ وزیر اعلیٰ نے جہانگیر ترین سے ملاقات کی تھی جہانگیر ترین صاحب تو بیرون ملک گئے ہوئے تھے وزیر اعلیٰ نے جھوٹی خبریں چلوا کر اپنا چہرہ دکھایا سندھ پولیس کے کچھ افسران نے پیپلز پارٹی کے لوگوں کے کرتوت دکھائے وزیر اعلیٰ اپنی ہی پولیس سے اعلان جنگ کر رہے ہیں آئی جی سندھ کے خلاف کوئی کرپشن کیس نہیں ہے سندھ پولیس کو وزیر اعلیٰ فنڈ بھی پولیس کو جاری نہیں کرتے آپ کو غلام حیدر جمالی جیسے افسران چاہیے جن پر نیب پر کروڑوں کی کرپشن کا کیس چل رہا ہے ان کو فرخ بشیر سے پولیس چلوانی ہے تو ان کو آئی جی سندھ لگوا دیں تین سال کا مدہ ہے آئی جی کا آپ ثابت کریں کیوں تبدیل کیا جارہا ہے؟ سعید غنی کی پریس کانفرنس اور وزیر اعلیٰ کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سی ایم (CM) پنجاب مریم نواز کے نام مجبور باپ کی فریاد

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے