Home / اہم خبریں / رینجرز کی سی ٹی ڈی پولیس کے ہمراہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن بسم اللہ کالونی میں مشترکہ کارروائی، کالعدم تنظیم کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

رینجرز کی سی ٹی ڈی پولیس کے ہمراہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن بسم اللہ کالونی میں مشترکہ کارروائی، کالعدم تنظیم کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان رینجرز (سندھ) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سی ٹی ڈی پولیس کے ساتھ اورنگی ٹاؤن کے علاقے بسم اللہ کالونی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم عرف شیخ بھائی اور فضل غنی عرف شفیق عرف نجیب کو گرفتارکیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزمان سی ٹی ڈی کی جاری کردہ ریڈ بُک میں مطلوب دہشتگرد ہیں اور ملزمان کا تعلق ٹی ٹی پی استاد اسلم گروپ سے ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
الف۔ منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم عرف شیخ بھائی جان۔ ملزم کا تعلق ٹی ٹی پی استاد اسلم گروپ سے ہے۔ ملزم انتہائی عسکری تربیت یافتہ ہے اور متعدد بار افغانستان اور وزیرستان جاتا رہا ہے۔ کراچی میں ٹی ٹی پی استاد اسلم گروپ کا امیر ہے اور جند اللہ گروپ کے امیر ثاقب عرف انجم اور تحریک طالبان سوات کے کراچی کے عسکری امیر سلمان عرف یاسر کا قریبی ساتھی ہے۔ گرفتار ملزم کراچی میں دہشت گردی کی متعدد کاروائیوں میں ملوث ہے۔ منصور احمد عرف بلال عرف ابراہیم کا نام سی ٹی ڈی سندھ پولیس کی ریڈ بک میں سیریل نمبر 25 اور صفحہ نمبر 56 پر انتہائی مطوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے اور ملزم کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 30 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا ہے۔
ب۔ فضل غنی عرف شفیق عرف نجیب۔ ملزم کا تعلق ٹی ٹی پی استاد اسلم گروپ سے ہے اور منصور احمد عرف بلال کا انتہائی قریبی ساتھی ہے اور منصور احمد عرف بلال کے ہمراہ دہشت گردی کے تمام کاروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ ملزم ٹریننگ یافتہ ہے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد چمن بلوچستان اور سپن بلدک افغانستان میں روپوش رہا ہے۔ ملزم جنداللہ گروپ کے کراچی کے امیر ثاقب عرف انجم کا قریبی ساتھی ہے جو گرفتار ملزم فضل غنی عرف شفیق کا نام سی ٹی ڈی سندھ پولیس کی ریڈ بک میں سیریل نمبر 6 اور صفحہ نمبر18 پر انتہائی مطوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہے اور ملزم کی گرفتاری پر گورنمنٹ آف سندھ نے 20 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا ہے۔
 گرفتار ملزمان کی کارروائیوں کی تفصیل۔
الف۔ رینجرز اور پولیس مقابلے
15 مئی 2011 کو سول ہسپتال کراچی میں پولیس حراست میں زیر علاج اپنے ساتھی علاء الدین کو رہا کروانے کے لئے ملزمان نے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور اپنے ساتھی کو چھڑوا کر لے گئے تھے۔
25 مئی 2015 کو پاکستان رینجرز (سندھ) نے انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ ملکر ملزمان کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر اورنگی ٹاؤن کے علاقہ شاہ محلہ فقیر کالونی میں آپریشن کیا۔ رینجرز اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے نتیجے میں ملزمان کے تین ساتھی ناصر ڈاڈا، انور حسین عرف دیوانہ اور عبد السلام عرف سلام ہلاک جبکہ ملزمان کے ساتھی ارشد عرف خالد اور شہزادہ عرف عابد تراہ گرفتار کئے گئے تھے اور مذکورہ دونوں ملزمان دوران مقابلہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ملزمان کے گھر سے 3 عدد بی ایم میزائل، 55 کلو بارود، 4 عدد کلاشنکوف، 8 عدد پسٹلز، ایک عدد ایل ایم جی، 10عدد ہینڈ گرنیڈ، یوریا کھاد، پرائما کارڈ، ڈینونیٹرز، بال بیرنگ اور نٹ بولٹ بھی بر آمد ہو ئے تھے۔
24 اپریل 2017 کو پاکستان رینجرز (سندھ) نے مصدقہ انٹیلی جنس اطلاع پر صدر ٹاؤن تھانہ پریڈی کے علاقے اردو بازار میں ایک فلیٹ میں ملزمان کی اطلاع پر ریڈ کیا تھا جس کے دوران رینجرز اور ملزمان کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس میں ملزمان کے ساتھی نعیم عرف ماما، عبدالحفیظ عرف پہلوان، محمد زاہد آفریدی عرف سپن عرف حمید اور زاہد آفریدی کی بیوی اور ایک بیٹی ہلاک ہوئے تھے جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
ب۔ بم بلاسٹنگ کی کارروائیاں
21 نومبر 2012 کو تھانہ پیر آباد کے علاقہ اورنگی ٹاؤن پونے پانچ کی مرکزی امام بارگاہ کے اندر بلاک بم نصب کر کے بلاسٹ کیا گیا تھا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
29 جنوری 2014 کو نارتھ ناظم آباد کے علاقہ میں صائمہ ٹاور ریلوے لائن کے قریب رینجرز چیک پوسٹ پر بلاک بم بلاسٹ اور رینجرز ہیڈ کوارٹرز ناظم آباد میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں ملزمان کے ساتھی شیر بہادر اور جنداللہ گروپ کے کمانڈر ثاقب عرف انجم ملوث تھے۔ اس کارروائی میں ملزمان نے بلاک بم فراہم کیا تھا۔اس کارروائی میں 3 رینجرز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔
21 نومبر 2014 کو تھانہ اورنگی ٹاؤن کے علاقہ اور نگی ٹاؤن نمبر 5 میں ایک سیاسی جماعت کے رکن سازی کیمپ پر ہینڈ گرنیڈ بلاسٹ کیا تھا جس سے سیاسی جماعت کے 12 کارکنان زخمی ہو گئے تھے۔
3 فروری 2015 کو تھانہ سائیٹ اے کے علاقہ حبیب بینک چورنگی کے نزدیک رینجرز کی موبائل پر ایک بلاک بم نصب کر کے بلاسٹ کیا تھا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
27 مارچ 2015 کو تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقہ قائد آباد مرغی خانہ میں نیشنل ہائی وے پر ایس ایس یو رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر کے اہلکاروں کی گاڑی کو بارودی موٹرسائیکل بلاسٹ کر کے تباہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید جبکہ 15 اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
ج۔ اغواء برائے تاوان/ بنک ڈکیتی کی وارداتیں
ملزمان 2014 اور 2015 کے دوران میٹروول، سعید آباد اور مومن آباد کے علاقوں میں اغواء برائے تاوان کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں جس میں مغویان کو رہا کرنے کے عوض کروڑوں مالیت کا تاوان بھی وصول کیا گیا۔
ملزمان 2012 اور 2013 کے دوران میٹرو ول، بنارس چوک، رشید آباد اور کورنگی کے علاقوں میں لاکھوں روپے مالیت کی بنک ڈکیتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔
درج بالا ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی بر آمد کر لیا گیا ہے اور ملزمان کو قانونی کارروائی
کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے