کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) 1994 عالمی کپ گولڈ میڈلسٹ اولمپین دانش کلیم نے کہا ہے کہ 2014 میں اولمپین اصلاح الدین، ایم اے شاہ ہاکی اکیڈمی کو سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والی دو کروڑ روپے کی خطیر گرانٹ کھلاڑیوں پر خرچ نہ کرنے اور اسکو بینک میں جمع کروا کر سود بنانے کے معاملہ پر سندھ حکومت کا گرانٹ کو سود سمیت واپسی کا فیصلہ خوش آئیند ہے، انہوں نے کہا کہ اولمپین اصلاح الدین نے مایوس کیا، افسوس کی بات ہے کہ کراچی کے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے دیا گیا سندھ حکومت کا پیسہ کھلاڑیوں پر جان بوجھ کر خرچ نہ کیا گیا، سابق اولمپین دانش کلیم نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن مالی تنگدستی کی بنا پر پرولیگ میں شرکت نہ کرسکی جسکی بناء پر ہم شرکت کے پوائنٹس گنوا بیٹھے اور عالمی رینکنگ میں 13 ویں نمبر سے 17 ویں نمبر پر چلے گئے اگر ہم اس ایونٹ میں شرکت کرتے تو ہم آج عالمی رینکنگ میں 10 ویں نمبر ہر موجود ہوتے لیکن افسوس کہ یہ سارے حالات اس وقت کے چیف سلیکٹر اولمپین اصلاح الدین کی آنکھوں کے سامنے تھے اور انہوں نے اس معاملہ میں صرف نظر سے کام لیا اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کا پیسہ نہ تو کھلاڑیوں کے کام آسکا اور نہ ہی پاکستان کی عزت میں اضافہ کا باعث بن سکا، سابق کوچ قومی ہاکی ٹیم اولمپین دانش کلیم نے کہا کہ سندھ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آڈٹ کے محکمہ کے ان افسران کی بھی انکوائری کی جائے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے نظر چراتے ہوئے 2014 سے آج تک اس معاملہ کا آڈٹ کیوں مکمل نہیں کیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ اس معاملہ کا نوٹس لیں اور کراچی کے کھلاڑیوں کا پیسہ اپنی زیرنگرانی متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کی وساطت سے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرائیں، انہوں نے مزید کہا کہ قومی کھیل کو سپورٹ کرنے کے لئے کراچی کے کھلاڑیوں کے لئے گرانٹ جاری ہونے کے باوجود ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت کو جامع اقدامات لینا ہونگے۔
![]()