Home / Home / پاسبان مظلوم عوام کی آواز اور امید بن کر مسائل کے حل کے لئے میدان میں کود پڑی ، مظاہرے سے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے ذمہ داران کا خطاب

پاسبان مظلوم عوام کی آواز اور امید بن کر مسائل کے حل کے لئے میدان میں کود پڑی ، مظاہرے سے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے ذمہ داران کا خطاب

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ سندھ خصوصا کراچی کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، یتیم و بے آسرا عوام کس سے جا کر فریاد کریں؟ حکومت مہنگائی اور غربت کے مارے عوام کے دکھوں کا کچھ تو مداوا کرے۔ وزیر صحت صاحب جواب دیں کہ کیا انسانی جانیں اس قدر ارزاں ہیں کہ انہیں سانپوں، کتوں اور ڈینگی و ملیریا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ آپ کو علم بھی ہے کہ کراچی سمیت پورے صوبے کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد آوارہ اور پاگل کتوں کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ڈینگی و ملیریا سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں پہنچ چکی ہے، سندھ کی وڈیرہ شاہی اور شہری لٹیرا شاہی کے ہاتھوں کب تک مظلوم عوام کی درگت بنتی رہے گی اور حکومت خاموش تماشائی کی صورت مہر بہ لب، بے حسی کی چادر اوڑھے خواب خرگوش کے مزے لوٹتی رہے گی؟ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے تحت لی مارکیٹ میں سانپوں، کتوں کے کاٹنے اور ڈینگی و ملیریا سے متاثرہ عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی اور قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر ضلعی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے کہا کہ محکمہ صحت کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے ملک بھر خصوصا صوبہ سندھ میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں میں فوری علاج معالجہ کی سہولت کے فقدان اور ویکسین کی عدم دستیابی کی بنا ء پر ڈینگی مرض سے متاثرہ کئی افراد اب تک جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، سندھ اور وفاقی حکومتوں کی خاموشی ان کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ دیہاتوں میں سانپوں کے کاٹنے کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ مناسب علاج معالجہ نہ ہونے کی بناء پر متاثرہ شخص جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ پورے صوبے میں آوارہ اور پاگل کتوں کی بہتات ہے جو روزانہ معصوم شہریوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بروقت اور فوری علاج نہ ہونے کی وجہ سے شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ شہری، صوبائی اور وفاقی حکومتیں صحت کے لئے مختص فنڈ کا اچار ڈالیں گی یا اسے عوام کے لئے استعمال بھی کیا جائے گا؟ گذشتہ کئی سالوں سے نہ جراثیم کش اسپرے کیا گیا اور نہ ہی آوارہ کتوں کو پکڑنے اور مارنے کے انتظامات کئے گئے۔ حکومت اور انتظامیہ اپنے فرائض کب انجام دیں گے؟مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر "مہنگائی کے جن کو قابومیں کرو”،”ڈینگی کا پھیلاؤ حکومت کی نا اہلی ہے” اور”کتے کے کاٹے کی ویکسین فراہم کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرے سے لیاقت علی، اکرم آگریا، جاوید اقبال،فضل ربی، اعجاز بلوچ، رمضان بلوچ، راشد خان، تحسین بلوچ، زاہد حسین بلوچ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت پورے صوبہ میں فوری جراثیم کش اسپرے کرایا جائے جو گذشتہ کئی سالوں سے نہیں کیا گیا۔ اسپتالوں میں نہ سانپوں کے کاٹے کا علاج دستیاب ہے، نہ ڈینگی اور نہ اینٹی ریبیز ویکسین۔ محکمہ صحت کوناقص کارکردگی کے عوض سخت سزائیں دی جانی چاہیئں۔ تمام حکومتی عہدیداروں کو کچھ دن کے لئے گلی محلوں میں آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تا کہ انہیں عوام کی تکالیف کا اندازہ ہو سکے۔ جانوروں کا تحفظ بعد میں پہلے انسانوں کا تحفظ کیا جائے۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے