Home / اہم خبریں / کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر تباہ و برباد ہو گیا ہے اس کی بہتری کے لئے زیادہ سے زیادہ سرکاری، نجی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ الطاف شکور

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر تباہ و برباد ہو گیا ہے اس کی بہتری کے لئے زیادہ سے زیادہ سرکاری، نجی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر تباہ و برباد ہو گیا ہے اس کی بہتری کے لئے زیادہ سے زیادہ سرکاری، نجی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ پاکستانی نجی بس سروس(ایئرلفٹ) پاکستانی انجینئرز اور آئی ٹی پروفیشنلز کی محنت و قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ ان گاڑیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی رقم ملک میں ہی رہے گی، اس کا درآمدی بل پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ پاکستان میں قابلیت اور ہنر کی کوئی کمی نہیں ہے، غیر ملکی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی بعد میں، پہلے مقامی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ روٹ پرمٹ، این او سی اور فٹنس سرٹیفکٹ کے نام پر پاکستان میڈ بسوں اور گاڑیوں کو چلنے سے روکنا دراصل پاکستانی ہنر مندوں اور معیشت کے خلاف سازش ہے، یکساں سلوک کیا جائے۔ سندھ حکومت 40,30 اور 50 سال پرانی بسوں اور گاڑیوں کو بنا فٹنس سرٹیفیکٹ سڑکوں پر چلنے کی اجازت دے سکتی ہے تو پاکستانی نوجوانوں کی کارکردگی پر بھی بھروسہ کرے۔ نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی نہ کی گئی تو پاکستانی ٹیلنٹ اور نوجوان نسل آئی ٹی ایکسپرٹس کا مستقبل ہمیشہ کے لئے تاریک ہو جائے گا۔ 2008 سے قائم سندھ حکومت عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کر سکی۔عوام ٹوٹی پھوٹی بسوں، منی بسوں اور چنگ چیز میں اذیت ناک طریقے سے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔ کراچی سرکلرریلوے کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لئے عوام کی اولین ضرورت ہے۔ اسے فورا قابل عمل بنایا جائے۔ اورنج اور گرین لائن منصوبوں کو بھی جلد از جلد پایہ ء تکمیل تک پہنچایا جائے۔ نجی پاکستانی کمپنیاں ملک کو درپیش ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لئے آگے بڑھ کر کام کرنا چاہتی ہیں تو غیر ملکی کمپنیوں کی طرح ان کا بھی خیر مقدم کیا جائے نہ کہ ان کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔ الطاف شکور نے ان خیالات کا اظہار سندھ ٹرانسپورٹ حکومت کی جانب سے ایک پاکستانی نجی کمپنی سے فٹنس سرٹیفکیٹ مانگنے کی خبروں کے رد عمل کے طور پر کیا۔ الطاف شکور نے کہا کہ پاکستان میں موجود غیر ملکی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو حکومت کا بھرپور تعاون حاصل ہے، وہ پاکستان میں کام کر کے ڈالرز کی شکل میں تمام رقم بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں جس سے پاکستانی عوام اور معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پاکستانی ٹرانسپورٹ کمپنی جو مقامی انجینئرز اور آئی ٹی پروفیشنلز نے پبلک سروس کیلئے مل کر بنائی ہے ایک خوش آئند قدم ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کراچی کی سڑکوں پر برسوں پرانی بسوں سے فٹنس سرٹیفکٹ مانگا جاتا ہے؟ جب وہ روٹ پرمٹ اور این او سی کے بناء چل سکتی ہیں تو عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے والی یہ پرائیویٹ بسیں جو تمام ٹیکسز دینے کے لئے تیار ہیں، کیوں نہیں چل سکتیں؟ ریاست مدینہ کے دعویداروں کا یہ دوہرا معیار کیوں؟ وزیر اعظم عمرا ن خان صاحب جس نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں اس میں پاکستانی بزنس کمیونٹی اور آئی ٹی پروفیشنلز کے لئے کیوں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں؟ آئی ٹی ایکسپرٹس کی حوصلہ شکنی ہوئی اوران کی محنت پر پانی پھر گیا تو کوئی بھی مثبت کام کے ذریعے ملکی ترقی کیلئے آگے نہیں بڑھے گا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے