کوالالمپور (بیورو رپورٹ) ملائیشین امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر داتو خیرالزمائی داؤد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منگل کے روز امیگریشن ڈپارٹمنٹ نے کالانگ میں چھاپوں کے دوران 177 غیر قانونی تارکین وطن کو جعلی دستاویز رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کی عمریں 20 سے 50 سال کےدرمیان ہیں جن میں اکثریت بنگلہ دیشی اور انڈونیشین کے شہریوں پر مشتمل ہے، جبکہ بقیہ شہریوں میں میانمار، بھارت، پاکستان، نیپال، کمبوڈیا اور سری لنکا کے شہری شامل ہیں۔ جنہیں مزید تفتیش کے لئے بکیٹ جلیل امیگریشن حراستی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کے بعد حراست میں لیا گیا سب سے بڑا گروہ انڈونیشین باشندوں پر مشتمل ہے، جبکہ باقی افراد کا تعلق مختلف دیگر ممالک سے تھا۔ ڈائریکٹر امیگریشن نے انکشاف کیا ہے کہ اکثریت میں گرفتار ہونے والے افراد سے دوران تفتیش یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے جعلی یو این ایچ سی آر (یو این ریفیوجی ایجنسی) کارڈز اور مائی آر سی شناختی کارڈ مشترکہ طور پر 200 رنگٹ میں بنواۓ ہیں۔ ڈائریکٹر امیگریشن نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال یکم جنوری سے 23 اکتوبر تک ملک بھر مختلف چھاپوں اور کاروائیوں میں مجموعی طور پر 170،808 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں سے 43،476 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 1،086 کمپنی کے مالکان بھی شامل ہیں۔
![]()