ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ ضلع بھر میں سرکاری ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے کی بجائے اپنے پرائیویٹ کلینکوں پر ڈیوٹیاں سرانجام دینا شروع کر دیں، سرکاری ہسپتالوں کے او پی ڈی میں ڈیوٹیاں دینے کی بجائے اللہ کے رحم و کرم پر مریضوں کو چھوڑ دیا گیا، مریض پرائیویٹ کلینکوں پر علاج کروانے پر مجبور، پرائیویٹ ڈاکٹرز کی فیسیں مریضوں کی پہنچ سے باہر، غریب مریض مہنگائی کے دور میں علاج کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے نوٹس لینے کا مطالبہ، سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹرز نے غریب مریضوں کی آڑ میں اپنے ذاتی مفاد کی غرض سے ہڑتال کر رکھی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے کی بجائے ہسپتالوں کے باہر اپنے پرائیویٹ کلینک اور ہسپتال بناکر وہاں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں، ہسپتالوں کے اندرموجود میڈیکل سٹورز، کمروں کے کرائے، لیبارٹریوں کے مہنگے ٹیسٹوں کے نام پر بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں، مہنگائی کے اس دور میں نجی ہسپتالوں کے مالکان نے غریب مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا شروع کر رکھا ہے۔ متعدد سرکاری ڈاکٹرز نے سول ہسپتال کے باہر پرائیویٹ کلینک کھول رکھے ہیں، جہاں مریضوں سے فیسوں اور ٹیسٹوں کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، دوسری جانب ادویات بنانے والی کمپنیوں سے مراعات ملنے پر ڈاکٹروں نے کوٹھیاں، بنگلے، گاڑیاں، پلازے خرید کر کرایہ پر چڑھا رکھے ہیں، میڈیسن کمپنیوں کے ساتھ معاملات طے ہونے کیوجہ سے سادہ لوح غریب مریضوں کو مہنگی ادویات کے نسخے تجویز کرکے دیئے جاتے ہیں، جس کیوجہ سے غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے مریض لٹنے پر مجبور ہیں، مریضوں اور ان کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزیر صحت و دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک پر کام کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔
![]()