مانسہرہ (رپورٹ: عتیق سلیمانی) پاکستان اور کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے کی تباہ کاریاں شاہد باقی دنیا تو بھول گئی ہو لیکن اس متاثرین آج بھی بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کے غم میں آنسو بہاتے ہیں پاکستان اور کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005 کو آنے والے زلزلے کی تباہ کاریاں شاہد باقی دنیا تو بھول گئی ہو لیکن اس کے متاثرین آج بھی بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں، زلزلے میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہے بڑی تعداد میں بچے اپنے سکولوں میں دفن ہوگئے یہ قیامت تھی جو گزر گئی یقین آتا بھی تو کیسے آتا اس سے پہلے نہ کبھی ایسا ہوا تھا نہ کسی نے کبھی ایسا ہوتے ہوئے دیکھا تھا آج 14 برس بعد زلزلہ متاثرعلاقوں میں جانے پر شاہد ہی زلزلے کی کوئی یاد باقی دکھائی دے کیونکہ تعمیر نو کے بعد علاقہ پہلے سے بہتر تعمیر ہو چکا ہے لیکن ایک جگہ آج بھی اسی زلزلے کا منظر پیش کر رہی ہے وہ ہے لوگوں کے دل و دماغ جہاں آج بھی کئی کہانیاں باقی ہیں۔
![]()