میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) چیئرمین بلدیہ انجینئر کامران شیخ اور وائس چیئرمین فرید احمد خان نے ارکان کونسل کے ہمراہ اپنے دفتر میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق پرست بلدیاتی قیادت کا روز اوّل سے یہ مشن و مقصد ہے کہ دستیاب وسائل اور تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے میرپورخاص کی تعمیر و ترقی اور عوام کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سال 2005ء تا 2008ء بلدیاتی دور حکومت میں حق پرست قیادت نے میرپورخاص شہر کا انفرا اسٹرکچر جدید سہولتوں سے آراستہ کردیا تھا جو حق پرست قیادت کا قابل فخر کارنامہ ہے۔ حق پرست قیادت میرپورخاص شہر کے فراہمی و نکاسی آب کے نظام کی بہتری، سڑکوں، پارکس سمیت دیگر بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں لیکن عوام دشمن پیپلزپارٹی کے سہولت کار سی ایم او میرپورخاص اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کے اس سفر میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ بجٹ 2019-20 یکم اکتوبر 2019ء کو کونسل ہال میں پیش کیا گیا اور 42 ارکان کونسل نے بحث کے بعد بجٹ منظور کیا جسے نہ صرف کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا بلکہ تمام صحافیوں نے بھی قلمبند کیا۔ بجٹ اجلاس کے فوٹیج کئی نیوز چینلز پر نشر ہوئے اور خبر اگلے روز کے اخبارات کی اشاعت میں شامل تھی، بجٹ منظوری کا تمام ریکارڈ موجود ہے جبکہ سی ایم او میرپورخاص سیاسی آقاؤں کے اشارے پر کہتے ہیں کہ بجٹ منظور ہی نہیں ہوا۔ سی ایم او کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری لیٹر جاری نہیں کیا گیا۔ سی ایم او میرپورخاص عوام کے منتخب کردہ چیئرمین بلدیہ کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ میں چیئرمین بلدیہ کو لیٹر کیوں دوں؟ سی ایم او میرپورخاص کا یہ عمل جمہوری دور حکومت میں آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اب تک چار بجٹ پیش کئے جاچکے ہیں۔ بجٹ 18-2017 جب پیش کیا گیا تو سی ایم او نے پی پی پی کے صرف 14 ارکان کونسل کی خوشنودی کے لئے کورم کا بہانہ کرکے بجٹ منظور نہیں کیا اور دوبارہ بجٹ ریکوزیشن کیا گیا۔ اس کے بعد جب 19-2018 کا بجٹ پیش کیا گیا تو 42 حق پرست ارکان کونسل نے بجٹ مسترد کردیا جبکہ پی پی پی کے صرف 14 ارکان کونسل پر مشتمل اقلیت نے سی ایم او کی ملی بھگت سے بجٹ منظور کرلیا اور 42 ارکان کونسل کی اکثریتی رائے کو غیر قانونی طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم او شفیق شاہ سیاسی آقاؤں کے ایماء پر ایم کیو ایم پاکستان کے ووٹرز کو بدظن اور دور کرنے کی گھناؤنی سازش پر عمل پیرا ہیں اور انہوں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بلدیاتی ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ شفیق شاہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو اور شہر کی تعمیر و ترقی میں بلدیہ کونسل اپنا بھرپور کردار ادا کرسکے۔ 28 مارچ 2017ء کو منعقدہ میونسپل کمیٹی میرپورخاص کے اجلاس میں کثرت رائے سے 18 ویں گریڈ کے آفیسر شفیق شاہ کی 19 ویں گریڈ میں بطور چیف میونسپل آفیسر تقرری کو سپریم کورٹ کے احکامات کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ریلیو کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ بلدیاتی کونسل نے اس کے علاوہ شفیق شاہ کے خلاف عارضی من پسند خاکروب بھرتی کرنے اور عوام کے جائز اور قانونی کام نہ کرنے کے خلاف بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی۔ جس پر آج تک حکومت سندھ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ سی ایم او شفیق شاہ اور ان کے سیاسی آقاؤں کی نظر ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص عوام کے پیسے پر ہے اور وہ منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ 20 -2019 کی منظوری کے بعد مثبت سوچ کے حامل ارکان کونسل چاہتے ہیں کہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے اور عوام کا پیسہ عوام کی فلاح کے لئے خرچ ہو جبکہ پیپلزپارٹی کے سیاسی آقا اوران کے منظور نظر بیوروکریٹس 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم نالہ پروجیکٹ اور من پسند منصوبوں کی آڑ میں ہڑپ کرنے کے درپے ہیں۔ سی ایم او شفیق شاہ تاخیری حربوں اور منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے شہر میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمداور عوام کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ سابق چیئرمین کے دور میں کونسل سے منظوری کے بغیر 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم کرپشن کی نذر کردی گئی جس میں سی ایم او شفیق شاہ برابر کے شریک ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے آکٹرائے ٹیکس کے ٹھیکے بھی کونسل کی اجازت کے بغیر پی پی پی کے من پسند افراد کو دیئے گئے۔ شفیق شاہ نے بھاری رشوت کے عوض بلدیہ میرپورخاص کی قیمتی املاک کو اونے پونے دام فروخت کرنے کا گھناؤنا دھندہ شروع کر رکھا ہے جس کا ثبوت وہ لیٹر ہے جو سی ایم او شفیق شاہ نے انکروچمنٹ ٹریبونل کو بھیجا ہے۔ شفیق شاہ نہ جانے کون سے محکموں اور افراد کو ایسے لیٹر جاری کرتے ہیں جن کی چیئرمین، وائس چیئرمین اور بلدیہ کونسل سے منظوری نہایت ضروری ہے۔ حق پرست بلدیاتی قیادت پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے وزیر اعظم عمران خان، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف آف آرمی اسٹاف، چیئرمین نیب، گورنر سندھ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات، کمشنر و ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سیاسی ایجنڈے پر کاربند چیف میونسپل آفیسر شفیق شاہ کے متعصبانہ اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیا جائے اور اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دیا جائے اور بلدیاتی ادارے کو سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھانے اور کرپشن میں ملوث سی ایم او شفیق اور ان کے سیاسی آقاؤں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
![]()