Home / اہم خبریں / بھارت سے تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر بھارت دھمکیاں دے گا تو پوری قوم کھڑی ہے۔ وزیراعظم عمران خان

بھارت سے تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر بھارت دھمکیاں دے گا تو پوری قوم کھڑی ہے۔ وزیراعظم عمران خان

لاہور(بیورو رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم کسی عالمی طاقت کا دباؤ لینے والے نہیں، پتا نہیں بھارت میں کیوں تکبر ہے، بھارت سے تعلقات کو بہترکرنے کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر بھارت دھمکیاں دے گا توپوری قوم کھڑی ہے۔ انہوں نے لاہور میں سرکاری ملازمین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس کا ہے۔ ملکی ادارے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پورے پاکستان میں بیوروکریسی اور پولیس کوٹھیک کرنا ہے۔ حکومت میں پولیس پرکوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا کہ آپ غلط کام کریں۔ حافظ آباد میں الیکشن ہوا توایس پی شہباز شریف کیلئے ووٹ مانگ رہا تھا۔ جب پولیس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے سامنے 1960ء کی بیورو کریسی ہمارے سامنے نیچے گئی تھی۔ اب ہم اسی کو واپس لینے جارہے ہیں ہمیں محنت کرنا ہوگی۔ جب بیوروکریسی کو اتھارٹی دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ ہماری حکومت میں کسی پرکوئی پریشر نہیں ہوگا۔ مجھے تکلیف ہوئی کہ ایک پولیس افسر اور دو بیوروکریٹ پبلک میں چلے گئے۔ آئندہ ایسی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاست میں ملوث بیوروکریسی اور پولیس ایسے کام کرتی ہے۔ اگر آئندہ کوئی بیوروکریٹ مسائل عوام میں لیکر گیا تواس کونہیں چھوڑوں گا۔ ہم نے اپنی پارٹی کوبتایا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تووہ وزیراعلیٰ کو بتائے اور وزیراعلیٰ آئی جی سے بات کرے گا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے خیبرپختونخواہ میں لوگوں کی زندگیاں بہتر کی ہیں۔ جب لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوگئیں تو لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی میں کوئی دخل اندازی نہیں کریں گے۔ میری درخواست ہے کہ بیوروکریسی نئی سوچ کے تحت کام کرے جب میں نئے پاکستان کی بات کرتا ہوں تووہ نئی سوچ ہوتی ہے۔ بیورو کریسی میں تبدیلی کیلئے سرکاری افسران ہماری مدد کریں۔۔وزیراعظم نے کہا کہ تھانوں میں عام آدمی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ میانوالی میں جب میں نے الیکشن لڑا تو وہاں شکایات زیادہ تر تھانوں سے متعلق ہوتی تھیں۔ پولیس افسران کوچاہیے تھانوں کوخود مانیٹر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحول سرمایہ کاری کیلئے بڑا سازگار ہے۔ ہم نے پالیسی بنانی ہے جبکہ عمل درآمد کروانا پولیس افسران اور بیوروکریسی کا کام ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھیک مانگنے نہیں بلکہ سرمایہ کاری کیلئے گئے تھے۔ سرمایہ کاری آئی تو ملک بہت آگے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہترین جگہ ہے۔ پاکستان کی جیواسٹریٹجک پوزیشن بہت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی عالمی طاقت کا دباؤ لینے والے نہیں ہیں۔ پتا نہیں بھارت میں کیوں تکبر ہے۔ ہندوستان کا اگر تکبر ختم ہوجائے توخطے کے لوگ خوشحال ہوجائیں۔ لیکن وہ دھمکیاں دیتے ہیں جنگ کرنی ہے توہ سب تیار ہیں۔ بھارت سے تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر بھارت دھمکیاں دے گا تو پوری قوم کھڑی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

قلندرز کی دھماکہ خیز فتح، زلمی کی فتوحات کا سلسلہ تھم گیا

لاہور، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پی ایس ایل کے اہم مقابلے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے