نیو یارک (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ نیویارک میں امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرکٹ سے میں نے سیکھا کہ کامیابی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ کھیل مقابلہ کرنا اور برے حالات کا سامنا کرنا سکھاتے ہیں۔ 22 سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں۔ ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کو چلانے کیلئے خرچ کم اور آمدن بڑھانا ہوتی ہے، گزشتہ حکومتیں معیشت کی سمت درست کرنے میں ناکام رہیں۔ ہمیں خراب معیشت ورثے میں ملی۔ حکومت ملی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا سامنا تھا، خسارے سے نکلنے کیلئے سعودی عرب، چین اور دیگر مسلم ممالک نے مدد کی۔ چین نے دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے پاکستان کی مدد کی۔ ماضی میں اخراجات کے مقابلے میں آمدن کوبڑھایا نہیں جاسکا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف پاکستان نے امریکہ کی مدد کی۔ سوویت فوج نے افغان جنگ کے دوران دس لاکھ افغان شہریوں کو جاں بحق کیا۔ روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑی۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہوکر بڑی غلطی کی۔ پاکستان کا امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کاحصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے اچانک مجاہدین کو دہشتگرد کہنا شروع کردیا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں۔ پاکستان میں اس وقت بھی 27 لاکھ مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ سے کہتا رہا ہوں کہ افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ افغانستان میں کبھی بیرونی طاقت قبضہ نہیں کرسکی۔ برطانیہ کو بھی افغانستان میں بہت مزاحمت کا سامنا کرناپڑا تھا۔ ڈیورنڈ لائن برطانیہ نے بنائی تھی، اب ہم اس پر باڑ لگا رہے ہیں۔ 2008ء میں امریکہ آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان شہری 40 سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ افغان عوام امن چاہتے ہیں۔ میں نے سمجھتا ہوں کہ طالبان سارے افغانستان کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں اور ان کا مورال بہت بلند ہے۔ طالبان نے ماضی سے سبق سیکھا ہے، ان کو پتہ ہے کہ وہ سارے افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ افغان مسئلہ بہت مشکل ہے۔ بدقسمتی سے افغان امن معاہدہ آخری لمحات میں طے نہ پاسکا۔ افغانستان میں سیاسی مذاکرات کی کامیابی بہت مشکل مرحلہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ایبٹ آباد کا نتیجہ کیا رہا؟ اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ پاکستان اپنے تمام پڑوسی ممالک سے امن چاہتا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کیلئے مدعو کیا ہے۔ پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کے ساتھ ہے۔ مودی کو بتایا تھا کہ فوج سمیت پورا ملک میرے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ کے بعد بھارت کے الزام پر ثبوت مانگے لیکن بھارت نے ثبوت دینے کی بجائے بمباری کردی۔ ہمیں پتہ ہے کہ بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے۔ پھر کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر چلائی گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کرفیو لگا کر 80 لاکھ کشمیریوں کو 50 روز سے بند کر رکھا ہے۔ جوہری ممالک میں جنگ کی وجہ سے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ عالمی برداری بھارت کو کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا کہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ سے بھارت کے معاملے پر بات کی تھی۔ سب پر واضح کیا کہ پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ بھارت کو بتایا تھا کہ غربت کے خاتمے سمیت دونوں ممالک کی ترجیحات ایک ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ میرا منشور قانون کی حکمرانی اور کمزوروں کی مدد کرنا ہے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع ایشو ہے۔ ان حالات میں کیسے بات چیت کرسکتے ہیں؟ اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ یہ ادارہ اسی لیے وجود میں لایا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام صرف ایک ہے۔ معتدل یا بنیاد پرست اسلام کی اصطلاحوں کو مسترد کرتا ہوں ۔ ہمارے نبیﷺ نے فرمایا کہ تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اسلام نے اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیئے ہیں۔ اسلام کے مطابق تمام انسان برابر ہیں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے خود کو قانون سے بالاتر رکھا۔ اسلام نے اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیئے ہیں۔ ہم اپنی سرزمین پر کسی انتہا پسند گروپ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
![]()