کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) بھارتی قید خانوں میں بند پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کیلئے پاکستان فشر فوک فورم کی طرف گذشتہ روز آرٹس کونسل سے پریس کلب کراچی تک احتجاجی مظاہرہ کر کے ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی مظاہرے میں کراچی، ٹھٹہ اور سجاول سے قیدی ماہی گیروں کے ورثا جن میں ان کی ماؤں، بیویوں اور معصوم بچوں سمیت بڑی تعداد میں ماہی گیروں اور پاکستان فشر فوک فورم کے رہنماؤں و کارکنان نے شرکت کی، جو ’’ماہی گیروں کی گرفتاری کا سلسلہ بند کرو، ماہی گیروں کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک بند کرو، بھارتی دہشت گردی نامنظور، روزگار پر حق دو، سمندر پر حق دو، ‘‘ جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پر پاک و ہند حکومتوں سے ماہی گیروں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔ احتجاجی مظاہرین کی قیادت پاکستان فشر فوک فورم کے مرکز ی چیئرمین محمد علی شاہ، ضلع سجاول کے صدر نور محمد تھیمور، ضلع ٹھٹہ کے صدر گلاب شاہ، کراچی ڈویزن کے جنرل سیکریٹری طالب کچھی و دیگر کر رہے تھے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے مرکزی چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا کہ ماہی گیر روزِ اول سے سمندر سے مچھلی کا شکار کر کے اپنا گذر بسر کر رہے ہیں، انہیں سمندری حدود کی آڑ میں گرفتار کر کے قید خانوں میں بند کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 150 سے زائد پاکستانی ماہی گیر بھارتی قید خانوں میں بے گناہ بند ہیں، جن میں ریڑھی گوٹھ کراچی کے تین وہ ماہی گیر بھی شامل ہیں جو گذشتہ 19 سال سے جیل کی اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ ان
ہوں نے دونوں ممالک پاک و ہند کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کی جیلوں میں قید ماہی گیروں کو انسانی حقوق کی بنیاد پر آزاد کر کے سمندر سے آزادانہ روزگار حاصل کرنے کا حق دیا جائے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نور محمد تھیمور اور گلاب شاہ نے کہا کہ ہمارا تعلق انڈس ڈیلٹا کے علاقے سے ہے، ہمارے ماہی گیر روزگار کی تلاش میں سمندر کی طرف نکلتے ہیں اور سمندری حدود کی نشاندہی نہ ہونے کی وجہ سے بھارتی سیکورٹی اہلکار اچانک پاکستانی حدود میں داخل ہوکر ہمارے بے گناہ ماہی گیروں کو گرفتار کر کے سالوں تک قید خانوں میں بند کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے غریب ماہی گیر بھوک و بدحالی میں مبتلا ہوکر فاقہ کشی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزگار ہمارا حق ہے اور ہم صدیوں سے سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے روزی تلاش کرتے آرہے ہیں، ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی کی آڑ میں گرفتار کر کے کئی سالوں سے قید خانوں میں بند کردینا انسانیت نہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ روزگار کی تلاش میں سمندر جانے والے ماہی گیروں کی گرفتاری کا سلسلہ بند کر کے دونوں ممالک کی جیلوں میں قید تمام ماہی گیروں کو فوری طور رہا کیا جائے۔
![]()