Home / اہم خبریں / کراچی مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبہ کا قیام اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے یہ وفاق پاکستان میں ایک خوبصورت وفاقی اکائی کا اضافہ ہوگا

کراچی مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبہ کا قیام اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے یہ وفاق پاکستان میں ایک خوبصورت وفاقی اکائی کا اضافہ ہوگا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبہ کا قیام اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے یہ وفاق پاکستان میں ایک خوبصورت وفاقی اکائی کا اضافہ ہوگا اور اس سے وفاق پاکستان بہت مضبوط ہوگا۔ سرائیکی صوبے کے قیام میں اب مزید تاخر نہیں ہونی چاہیے۔ اکثریتی سرائیکی علاقوں کو سرائیکی صوبے میں تشکیل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مقامی ہوٹل میں ”سرائیکی صوبہ سیمینار“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا اہتمام سرائیکی عوامی سنگت اور سرونٹس آف سرائیکی سوسائٹی نے کیا تھا۔ سیمینار سے سینیٹر انوار الحق کاکڑ، ارکان قومی ڈاکٹر محمد افضل دھانڈلہ، آغا رفیع اللہ، شاہدہ رحمانی، پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر، سرائیکی عوامی سنگ کے صدر مشتاق فریدی، سینئر صحافی نذیر لغاری، رانا محبوب اور شاہد جتوئی نے بھی خطاب کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بھکر سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے کہا کہ سرائیکی صوبے کی جوحد بندی کی جارہی ہے اس میں بھکر کو شامل نہیں کیا جارہا حالانکہ راجن پور کے بعد بھکر سب سے زیادہ پسماندہ سرائیکی علاقہ ہے۔ ان سرائیکی علاقوں کو نئے صوبے میں ضرور شامل کیا جائے، جہاں کے عوام شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھکر اور میانوالی کو لازماََ سرائیکی صوبے میں شامل ہونا چاہیے۔ سرائیکی خطے کے لوگوں کے ساتھ بہت زیادیتاں ہوئی ہیں اب ان کی محرومیوں کا ازالہ ہونا چاہیے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ صوبے قومی شناخت کی بنیاد پر یا انتظامی بنیاد پر بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، میں سرائیکی عوام کا مقدمہ ہر جگہ لڑوں گا اور ہماری پارٹی کے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ سرائیکی صوبہ وفاق پاکستان میں ایک خوبصورت اضافہ ہوگا۔ سرائیکی عوام کا مقدمہ بہت مضبوط ہے۔ کراچی پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغارفیع اللہ نے کہا کہ سرائیکی صوبہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے اس سے طاقت کا توازن قائم ہوگا اور وفاق مضبوط ہوگا۔ ہم سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے سخت ایوانوں سمیت ہر جگہ کوشش کریں گے۔ سرائیکی تحریک اس خطے کی انتہائی پر امن تحریک ہے اگر سرائیکی صوبہ کے قیام میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو یہ پاکستان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے کہا کہ پاکستان کے سرائیکی علاقے بہت پسماندہ ہیں اور وہاں کے عوام محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سرائیکی صوبے کی سیاست تو کی لیکن وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے ہم سب ایوانوں میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ سرائیکی عوام کی جدو جہد رنگ لے آئی ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں یہ کہہ رہی ہیں کہ سرائیکی صوبہ بننا چاہیے۔2012 کے پارلیمانی کمیشن نے سرائیکی صوبہ کے قیام کے لئے جو سفارشات دی تھیں، ان کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جو سرائیکی علاقے شامل نہیں کئے ہیں انہیں بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئے صوبے کا نام سرائیکستان یا سرائیکی صوبہ رکھا جائے تو اس سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس سے سرائیکی عوام کو شناخت ملے گی۔ پیپلز پارٹی نے صوبہ سرحد کو خیبر پختونخواہ کا نام دیا اس سے وفاق مضبوط ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب سرائیکی صوبہ بنانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ سینئر صحافی اور دانشور رانا محبوب نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور سرائیکی صوبہ ایک نئی وفاقی اکائی کے طور پر قائم ہوگا۔ صوبے لسانی یا انتظامی نہیں ہوتے۔ سرائیکی عوام اپنا حق، شناخت اور صوبہ مانگتے ہیں۔ پاکستان کی ریاست کو مقامی لوگوں سے جڑنا ہوگا اور ایسا وفاق بنانا ہوگا، جس میں لوگ طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے رہیں۔ سینئر صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ سرائیکی عوام اپنے ان علاقوں پر مشتمل سرائیکی صوبہ چاہتے ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں اور جہاں زبان، رہن سہن تہذیب اور ثقافت کے مشترکہ عوامل کے ساتھ وہ صوبوں سے رہتے ہیں۔ وہ اپنے تاریخی وطن کی ایک قومی اکائی کے طور پر حد بندی چاہتے ہیں۔ سرائیکیوں کا دیگر وفاقی اکائیوں کے علاقوں پر کوئی دعویٰ نہیں ہے اور ان کا کسی سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ سرائیکی عوامی سنگت کے صدر مشتاق احمد فریدی نے کہاکہ سرائیکی خطہ کو جنوبی پنجاب کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے نئے صوبے کو سرائیکستان کانام دینے سے کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سر ائیکی علاقوں پر ”ریڈکلف ایوارڈ“ لگاکر انہیں تقسیم نہ کیا جائے ۔ سینئڑ صحافی شاہد جتوئی نے کہاکہ اگر سرائیکی اکثریت والے پنجاب کے 21 اضلاع اور خیبر پختوانخوا کے 2 اضلاع کونئے صوبے میں شامل نہ کیا گیا تو سرائیکی سوال حل نہیں ہوگا اور وفاق پاکستان کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سیرتِ نبویؐ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، موجودہ دور میں پیروی کی اشد ضرورت ہے۔

    درود پاک کونسل کی افتتاحی تقریب، نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے