کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈاکٹر سید مبین نے کہا ہے کہ 1943 میں لینر نے دنیا کو بتایا کہ ایک ایسی بھی بیماری ہوتی ہے انکا کہنا تھا کہ عموما تین سے پانچ سال کی عمر میں بچوں میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہوجاتی ہیں اوٹیزم اگر کسی بچے کو ہو تو اس کی تین علامات ہیں جس سے ہمیں معلوم ہوجاتا ہے جن بچوں کو اوٹیزم ہو ان کا لوگوں سے ملنا دوسرے بچوں کے مقابلے مختلف ہوتا ہے کچھ بچے گود میں اٹھاؤ تو وہ خوش ہوتے ہیں جبکہ ایسے بچے خوشی محسوس نہیں کرتے، اوٹسٹ بچے کم بولتے ہیں، دوسرے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتے، کبھی خود سے بات کرتے ہیں جبکہ کچھ بچے جو غیر انسانی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ہر چیز کو ریپیٹ کرینگے وہ چلتا پنکھا دیکھ کر دیکھتے رہتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کراچی نفسیاتی ہسپتال کے 50 سال مکمل ہونے اور بچوں میں پائی جانے والی بیماری اوٹیزم کے عالمی دن کے موقع پرکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا یہ بیماری کیوں ہوتی ہے اسکی وجوہات بتاتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ یہ بیماری ہونے کی مین چیز موروثیت ہوتی ہے جہاں پہلے سے ایسے لوگ ہوں تو وہاں ایسی بیماری کا ہونے کے چانس ذیادہ ہوتے ہیں جبکہ اگر جڑواں بچوں میں سے ایک کو کوئی بیماری ہے تو دوسرے کو بھی ممکن ہے کہ ہو ریسرچ سے پتا چلا کہ دماغی طور پر بھی ایسے بچوں میں مسائل ہوتے ہیں دس فیصد بچوں میں مرگی وغیرہ بھی ہوجاتی ہے ایسے بچے کبھی کبھی خود کونقصان پہنچاتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ مستقبل میں بہتری کیسے آتی ہے دس سے بیس فیصد بچوں کا چار سے چھ سال میں بولنے کا انداز ٹھیک ہوجاتا ہے جبکہ دس سے بیس فیصد گھر میں رہتے ہیں انہیں اسپیشل ایجوکیشن کی ضرورت ہوتی ہے ساٹھ فیصد ایسے بچے ہوتے ہیں جن کا آئی کیو ٹیسٹ میں 70 فیصد آئی کیو کم تھا ہوتا ہے ۔ ہمارا مقصد عام عوام کو بتانا ہے کہ بچے کسے ہوتے ہیں بچوں کو پریشر دیا جاتا ہے اسکول کالج کے لئے ۔ایسے بچے پہلے ہی کمزور ہوتے ہیں ایسے بچوں پر سختی نا کریں یہ ایک بیماری ہے انہیںآسانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اس موقع پر موجود ماہر نفصیات ڈاکڑت ماہ رخ نے کہا کہ بچوں میں موجود اوٹیزم بیماری کا ہمیں پتا چل گیا تو اب ہمیں کرنا کیا ہے سب سے پہلے پہلے انکی کی پروگریس دیکھنی ہے ۔اگر کم ہے تو اس میں دیکھنا ہے وہ کیا سیکھ سکتے اس کی سلاحیتوں کو دیکھنا ہے جس طرح ایک ٹھیک بچے سے بھاگنے دوڑنے کی امید کی جاتی ہے اسی طرح اس سے وہ امیدیں نہیں لگانی چاہے کچھ بچے ماں باپ کے پیار سے خوش ہوتے ہیں کچھ ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ برا مان گئے ماں باپ سوچتے ہیں ہم نے غلطی کیا کی پھر ہم ان ماں باپ کو سمجھاتے ہیں۔ان بچوں کو ہم اپنے سسٹم پر نہیں چلا سکتے وہ انسٹرکشن نہیں سمجھتے ہمیں انکے حصاب سے چلنا ہے ان بوں کو چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر ریوارڈ دینے پڑینگے جب دس انعام جمع ہوجائیں تو بڑا انعام دیں اسکولوں میں۔ ٹرینڈ اساتذہ ہونے چاہیے۔ بچوں پر سختی میں کمی لانی ہوگی۔ ایسے بچے نارمل نہی ہوتے یہ پیدائشی بیماری ہوتی ہے۔ایسے بچے دیر تک نہیں بولتے۔ دو سال عمر میں بھی عام بچے سے کم بولتے ہیں ایسے بچے دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوتے انہوں نے مزید بتایا کہ اگر بچے کی والدہ حاملہ ہونے کت دوران کچھ مخصوص دواؤں کا استعمال کرے تو بھی بچوں میں یہ بیماری ہوجاتی ہے اور اگر والدہ شراب نوشی کرتی ہے تو بھی بچوں میں یہ بیماری ہوجاتی ہے تو بہتر ہے تو بہتر ہے ان باتوں سے بھی احتیاط کی جائے۔
![]()