پشاور (رپورٹ: جنید وزیر) سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس ابراہیم خان نے اس وقت کے کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان سمیت 5 اہم عسکری افسران کو بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کرلیا کمیشن نے اُس وقت کے آئی جی پولیس ناصر خان دورانی، ہوم سیکرٹری اختر علی شاہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عالم شنواری کو بھی طلب کر لیا ہے کمیشن نے وزارت دفاع اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا کو مراسلہ بھیجوا دیا ہے جس میں تین دن کے ا ندر ان افسران کی پیشی کا شیڈول فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جمعہ کے روز سانحہ اے پی ایس کی تحقیقات کیلئے قائم کئے گئے کمیشن کے ترجمان عمران اللہ نے میڈیا کو بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کی تحقیقاتی کمیشن نے 19 اکتوبر سے کام جاری رکھا ہوا ہے اور اب کمیشن کے سربراہ جسٹس ابراہیم خان نے اس وقت کے اعلی عسکری افسران اور پولیس افسران کے بیانات ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کمیشن ان افسران کے بیانات ریکارڈ کر کے رپورٹ مرتب کر کے سپریم کورٹ بھیجوا دیں ان اہم عسکری اور پولیس افسران کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے کمیشن کے رجسٹرار انعام اللہ نے وزارت دفاع کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں اُس وقت کے کور کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ہدایت الرحمان، چیئرمین بورڈ آف گورنر اے پی ایس اسکول مدثر اعظم، بریگیڈئیر 102 ہیڈ کواٹر 11 کور عنایت اللہ، میجر ڈاکٹر آرمی میڈیکل کور عاصم شہزاد اور سیکریٹری بورڈ آف گورنر میجر آئی سی بی عمران کو بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کیا ہے۔ ترجمان عمران اللہ کے مطابق چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا کو بھی مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں اُس وقت کے آئی جی پولیس خیبر پختون خوا ناصر خان دورانی، ہوم سیکرٹری اختر علی شاہ اور ڈی ائی جی سی ٹی ڈی محمد عالم شنواری کو بھی بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے طلب کیا گیا ہے ترجمان کے مطابق گزشتہ روز اس وقت کے سی سی پی او اعجاز خان اور زخمی پولیس سپاہی وصال کے بیانات بھی ریکارڈ کر لئے گئے ہیں جبکہ کمیشن نے رجسٹریشن کرانے والے 93 گواہوں اور سی ٹی ڈی حکام کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کر چکی ہیں جبکہ منسٹری آف ڈیفنس کے نمائندے بھی گزشتہ روز بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کے والدین کے مطالبہ پر پشاور ہائیکورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔
![]()