کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی سٹی الائنس کے سربراہ حبیب جان بلوچ اور لیمارکیٹ تاجر کمیٹی کے وفد کی مردان ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی شاہی سید سے ملاقات۔ وفد نے شہر میں تجاوزات کے نام پر قدیم مارکیٹوں کے انہدام کے خلاف لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ تجاوزات کے خاتمے کے حکم کی واضح تشریح کی جائے حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے مئیر کراچی ضرورت سے زیادہ پھرتیاں دکھارہے ہیں۔ وسیم اختر کراچی والوں سے 2018 کے عام انتخابات کے نتائج کا بدلہ لے رہے ہیں۔ شہر میں اقتصادی و کاروباری سرگرمیاں مکمل طور ماند اور معیشت کا پہیہ مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے۔ شہر کا تاجر انتہائی عدم تحفظ کا شکار ہے پہلے ہی ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہے معاشی شہ رگ کو متاثر کرنے کے مقاصد سمجھ سے بالاتر ہیں۔ تجاوزات کے نام پر ظالمانہ کارائیوں کے بعد اب مرکزی ،صوبائی اور شہری حکومتیں فیس سیونگ کا راستہ اختیار کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ مرکزی ،صوبائی اور شہری حکومتیں سپریم کورٹ کے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات کی اپنی اپنی تشریح کررہی ہیں۔ سپریم کورٹ سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔تجاوازات کے خاتمے کے نام پر کاروائیاں عجیب انداز میں شروع کی گئی ہیں۔کاروائیوں میں حصہ لینے والوں سے پوچھا جائے دکانیں مسمار کرنے سے پہلے متبادل کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔ کئی ہفتے گزرنے کے بعد متاثرین کو متبادل دینے کا لالی پوپ دیا جارہا ہے۔ اے این پی کراچی سٹی الائینس اور لیمارکیٹ تاجر کمیٹی کے ہر ممکن مدد کرے گی۔ صوبائی اور شہری حکومتوں کی آپس کی بیان بازیوں نے پورے عمل کو تماشہ بنا دیا ہے۔ حکمران بتائیں کہ ساری کاروائیوں کا ذمہ دار کون ہے۔ گزشتہ ایک مہینے سے اہلیان کراچی اپنے نمائندوں کی شکل دیکھنے کو ترس چکے ہیں۔ خدارا غریب دکانداروں پر رحم کیا جائے تجاوزات کے نام برسوں سے قائم مارکیٹوں کو گرا نے سے قبل فی الفور متبادل جگہ مہیا کی جائے۔
![]()