کراچی (پریس ریلیز) پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماء نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب پر حملہ انتہائی تشویش ناک ہے اور سنیئر صحافی نصراللہ چوہدری کی گرفتاری بھی قابل افسوس ہے ، پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اس احتجاج میں شریک ہوئی ہوں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کلب پر حملہ اور کلب کے رکن نصراللہ چوہدری کی گرفتاری کے خلاف منعقدہ احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ جہاں صحافیوں کے حقوق پر حملہ ہو اور غیر آئینی اور قانونی کارروائیاں ہوں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت پارلیمنٹرین ہم صحافیوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب پر حملہ تشویش ناک ہے اور یہ انتہائی غلط ہوا ہے ۔ نصراللہ چوہدری کی گرفتاری بھی قابل افسوس ہے ۔ انہوں کہا کہ حکومت آزادی صحافت کو یقینی بنائے ۔اگر صحافی آزاد نہیں ہیں ، پریس کلب آزاد نہیں ہے تو پھر ملک کے اندر لوگوں کے جو مسائل ہیں ان کے لیے کون آواز اٹھائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کے احتجاج میں شریک رہیں گے ۔آئین پاکستان نے آزادی اظہار رائے کا تحفظ دیا ہے اور جہاں اس پر قد غن آئے گی دراصل یہ جمہوریت پر قدغن کے مترادف ہوگی ۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ سے انسانی بنیادی حقوق پر حکمران حملہ آور رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس نے پریس کلب کا تقدس پامال کیا ہے ان کی مذمت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بدترین آمرانہ دور میں بھی کسی نے ہمت نہیں کی کہ پریس کلب میں داخل ہو سکے لیکن یہاں رات کی تاریکی میں پریس کلب پر حملہ کیا گیا ہے ۔ کراچی پریس کلب کے صدر احمد ملک احتجاجی کیمپ میں آنے والے سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور مختلف مزدور رہنماوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور رہنماء کا شکریہ ادا کیا۔ احمد ملک نے کہا کہ بدھ کو پورے پاکستان میں پی ایف یو جے کے زیراہتمام احتجاج ہوگا اس سلسلے میں پریس کلبوں پر سیاہ پرچم بھی لہرائیں جائیں گے اور ہم بھر پور قوت کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے انسانی حقوق ، مزدور تنظیموں ، سول سوسائٹی، مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے یوم اجتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی راجہ اظہر نے کہا کہ کلب پر حملے اورنصراللہ چوہدری کی گھر سے گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، لگتا ہے پریس کلب کی عمارت کسی کو پسند آگئی ہے، وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ اخبار پڑھنے اور لٹریچر پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، اس مسئلے پر کراچی پریس کلب کے ساتھ کھڑے ہیں،صحافیوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں آواز اٹھائی ہے۔چیئرپرسن عورت فاؤنڈیشن مہناز رحمان نے کہا کہ پریس کلب پر چھاپہ مار کر صحافت کے مقدس پیشے کی توہین کی گئی ہے، صحافی اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں۔سینئر صحافی سعید جان بلوچ نے کہا ہے کہ نصراللہ چوہدری کو جس طرح عدالت میں پیش کیا گیا وہ توہین آمیز ہے، معزز پیشےوالوں کی تذلیل کی جارہی ہے،اس عمل کی مذمت کرتے ہیں، صورتحال ایسی ہے کہ منٹو کا لٹریچر بھی مل جائے تو گرفتاری ہوسکتی ہے، صحافیوں کو تصادم کی طرف دھکیلا جارہا ہے، اس بات کو کمزروری نہ سمجھاجائے کہ ہم کلب کے اندر احتجاج کررہے ہیں۔ پی ایف یو جے کے سابق رہنماء اور سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ جو ان کا کام ہے وہ کرتے رہیں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے،قانون پر عملدرآمد کرانےکابھی قانونی طریقہ ہوتا ہے، پریس کلب پر دھاوے کا عمل غیر قانونی ہے، پہلی بار ہوا ہے کہ کسی صحافی پر جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، جے آئی ٹی غیر قانونی اور دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ پیپلزیونٹی کےرہنماء حبیب جنیدی نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنی طرف سے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے پریس کلب پر حملہ کی مذمت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو شاید یہ احساس بھی نہ ہو کہ وہ پریس کلب پر حملہ کرکے کتنا بڑا جرم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری جدوجہد سے کراچی پریس کلب کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ مارشل لا کے ادوار میں کراچی پریس کلب میں مزدور تنظیموں ، سیاسی ورکروں کو کلمہ حق کہنے کی آزادی تھی۔ کے یوجے کے صدر فہیم صدیقی نے کہا کہ کراچی پریس کلب نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے،ایک صحافی کے گھر سے لٹریچر ہی برآمد ہوگا، نصراللہ چوہدری کی گرفتاری کے بعد پروپیگنڈہ پریس ریلیز جاری کی گئی، سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی اس معاملے پر خاموشی افسوسناک ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا، جب تک پریس کلب سے معافی نہیں مانگی جاتی احتجاج جاری رہے گا۔ اسٹیٹ بینک سی بی اے کے سیکریٹری جنرل اورمزدور رہنماء لیاقت ساہی نے کہا کہ ہم پریس کلب پر حملہ اور صحافی نصراللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافی کو فی الفور رہا کیا جائے۔سینئر صحافی خورشید تنویر نے کہا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے آزاد میڈیا کا ہونا لازمی عنصر ہے ، آزادی صحافت بڑی قربانیوں کے بعد ملی ہے اور ہمارا یہ عزم اور فیصلہ ہے کہ اس پر ہم کسی بھی قسم۔کی قدغن نہیں لگنے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب پر وفاقی حکومت کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ہم وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے حملہ کا جواب مانگتے ہیں اوریہ اختیار ہمیں آئین پاکستان دیتا ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ رات کی تاریکی میں ہمارے گھر پھر حملہ کس نے اور کیوں کیا؟۔کے یو جے کے صدر حسن عباس نے کہا کہ دو روز پہلے جو کراچی پریس کلب میں ہوا ، اس حوالے سے گورنر سے ملے، مشیر اطلاعات سے ملے لیکن اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ بہت مایوس کن ہیں ۔ کلب کی حرمت کو جس طرح پامال کیا ہے وہ افسوس ناک ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب پر حملہ کے بعد اور صحافی نصراللہ چوہدری کی گھر سے گرفتاری سے متعلق جو پریس ریلیز جاری کی گئی وہ ناقابل قبول ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب پر حملہ ہوا ہے اس کی تلافی کرناہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنماء اور اکابرین جو بھی پالیسی اور لائحہ عمل بنائیں گے ہم شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اس موقع پرسابق صدر پی ایف یو جے ادریس بختیار، سیکریٹری جنرل پی ایف یو جے برنا ایوب جان سرہندی، نمائندہ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان خضرقاضی، پی ایف یو جے دستور کے سیکریٹری جنرل سہیل افضل خان، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شعیب احمد ،کے یو جے کے صدر طارق ابوالحسن ، رکن صوبائی اسمبلی مفتی قاسم فخری، ایڈیٹر جسارت مظفر اعجاز سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجودبھی موجود تھی۔
![]()