کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی پریس کلب کے باہر تاجران عمر فاروق مارکیٹ ایسوسی ایشن نے اپنا احتجاجی کیمپ لگا لیا جس میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم لوگ 1968 سے عمر فاروق مارکیٹ میں کاروبار کر رہے ہیں- 1969 سے کے ایم سی نے ہمیں چالان ایشو کیے کرایہ داری کے- 1969 سے 2018 تک باقاعدہ 605 دکاندار کرایہ ادا کر رہے ہیں- ہمیں دو میئر صاحبان نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ جنہوں نے ہماری کیبن تھی اس کو انہوں نے ہمیں دکان کا درجہ دے دیا- انہوں نے جو لیٹر دیا تھا وہ بھی ہمارے پاس موجود ہے- مصطفیٰ کمال نے بھی تسلیم کیا تھا اور اب 07-11-2018 کو ہم سے کہا جا رہا ہے کہ او غیر قانونی ہیں اور آپ 3 گھنٹے میں دکانیں خالی کردیں حالانکہ ہم کروڑوں روپے کرایہ کی مد میں ادا کر چکے ہیں جس طریقے سے کے ایم سی کی 69 مارکیٹیں کراچی میں ہیں- اس طریقے سے کرایہ ادا کرتے ٹرانسفر کی فیس بھی ادا کرتے ہیں- اور اب ہم سے کہا جارہا ہے کہ آپ غیر قانونی ہیں تو ہم سے کرایہ کیوں لیا جا رہا ہے- دو میئر صاحبان نے ہماری مارکیٹ کو کیوں تسلیم کیا- ہم سے میئر مصطفیٰ کمال نے ہماری ١٠ مارکیٹوں کے نمائندگان کو طلب کیا اور ہم سے کہا کہ آپ کی مارکیٹوں کو صاف ستھرا بنایا ہے ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کس طرح بناکر دینگے انہوں نے کہا کہ آپ کو آلہ دین پارک میں جو دکانیں ہیں اسی طرح بنا کر دیں گے- آلہ دین پارک کی دکانیں ہم نے دیکھیں- میئر مصطفیٰ کمال نے ہم سے ایک وعدہ کیا تھا کہ شہاب الدین مارکیٹ خالی کردیں- ہم نے شہاب الدین مارکیٹ خالی کردی- کے ایم سی نے ان کو مارکیٹ بنا دی اور اب وہاں کاروبار کر رہے ہیں- جبکہ میئر مصطفیٰ کمال نے ہم سے کہا تھا کہ جب مارکیٹ بن جائے گی تو ہم شہاب الدین مارکیٹ والی نئی مارکیٹ میں شفٹ کردیں گے اور شہاب الدین مارکیٹ میں آپ کو شفٹ کر کے دینگے ہم آپ کو بیروزگار نہیں کریں گے- ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت کو اس جگہ کی ضرورت ہے تو ہمیں متبادل کے طور پر صدر کے علاقے میں ہی کوئی دوسری روزگار فراہم کریں تاکہ ہمارے بچے بھوکے مرنے سے بچ سکیں-
![]()