کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین / اسٹاف رپورٹر ) چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ سے سینیئر مینیجمنٹ کورس کے 42 رکنی وفد نے ملاقات کی جس میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں، ممکنہ سیلاب کی تیاریوں، پولیس اصلاحات اور ہاؤسنگ اسکیمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ملاقات میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سید نجم احمد شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ڈی جی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اسد ضامن اور ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ بھی شریک تھے۔
چیف سیکریٹری نے وفد کو بتایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے لیے 1,018 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اہم منصوبوں میں شاہراہ بھٹو، کورنگی کاز وے برج، ملیر ندی پر برج، اسٹورم واٹر ڈرین، کراچی کے لیے 65 MGD اضافی واٹر سپلائی، قاسم آباد سیوریج سسٹم، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج اور کریم آباد انڈر پاس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈڈ پراجیکٹس میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ اور کمپیٹیٹو اینڈ لائیویبل سٹی آف کراچی منصوبہ جاری ہے، جبکہ ڈیلٹا بلیو کاربن پروجیکٹ کے تحت صوبے کو سالانہ 15 تا 20 ملین ڈالر آمدن متوقع ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے پولیس اصلاحات اور سیکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس بجٹ 189.7 ارب روپے ہے جس میں جدید سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر، سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم، کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، ای-ڈرائیونگ لائسنس، پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ اور ای-ٹیگنگ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ پولیس ویلفیئر کے تحت ہیلتھ انشورنس پیکیج اور شہداء پیکج میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ نے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تیاریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون 2025 میں سندھ میں معمول سے 33 تا 55 فیصد زائد بارشیں متوقع ہیں۔ اس مقصد کے لیے جامع کنٹینجنسی پلان تیار کیا گیا ہے جس کے تحت متعلقہ اضلاع کو ڈی واٹرنگ پمپس، ترپال شیٹس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، ہائی جین کٹس، مچھر دانیاں، کچن سیٹس اور فرسٹ ایڈ کٹس فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ بڑے گوداموں میں بھی وافر مقدار میں سامان ذخیرہ موجود ہے۔
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے، پولیس اصلاحات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اقدامات سندھ کو ایک مضبوط اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جائیں گے۔ وفد کے شرکاء نے سندھ حکومت کے فلیگ شپ منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا رہے ہیں۔