کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں لوک ورثہ کمیٹی کے زیر اہتمام ایک پروقار مشاعرتی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا، جس میں سندھی زبان کے نامور شاعر غلام سرور سومرو کی کتاب ’’سرور کی سار لہجانء‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی تقریب میں وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سندھ سید ذوالفقار علی شاہ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ صدر آرٹس کونسل احمد شاہ سمیت ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور ثقافتی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ غلام سرور سومرو کی کتاب کی اشاعت نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ سندھ کے ادبی حلقوں کے لیے بھی ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو سندھ کے ادبی ورثے، عظیم شاعروں اور ادیبوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ادب اور شاعری معاشروں میں شعور، فکری بیداری اور مثبت اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی دھرتی نے ہر دور میں ایسے شاعر، ادیب اور دانشور پیدا کیے جنہوں نے اپنے علم و فن سے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی شناخت حاصل کی سجن سرہاندی سمیت متعدد نامور شعراء نے سندھی ادب کو نئی جہتیں عطا کیں اور محبت، امن اور رواداری کے پیغام کو عام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافتی و ادبی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا اور ادبی ورثے کا تحفظ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب سے ڈاکٹر خلیل الرحمان شیخ، مدد علی سندھی، مسرور پیرزادو اور عبدالمومن میمن نے بھی خطاب کیا اور غلام سرور سومرو کی شاعری، ادبی خدمات اور سندھی زبان و ادب کے لیے ان کی گراں قدر کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر حمید سومرو نے کتاب کے ادبی، فکری اور ثقافتی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سندھی زبان و ادب کے فروغ اور ادبی روایت کے تسلسل کے لیے ایسی تقریبات ناگزیر ہیں۔ شرکاء نے لوک ورثہ کمیٹی کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ادب، ثقافت اور زبان کے فروغ کے لیے اسی جذبے کے ساتھ پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
تقریب کی نظامت ڈاکٹر ایوب شیخ نے انجام دی، جبکہ اختتام پر سندھ کے ادبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔