تازہ ترین
Home / Tag Archives: ثناء خان تنولی

Tag Archives: ثناء خان تنولی

کام چور سِی مَیں ۔ ۔ ۔ تحریر : ثناء خان تنولی

رات بھر جاگ کر موبائل کے بٹنوں کو گِھسںے سے لے کر سکرین کو انگوٹھے سے اوپر نیچے۔۔۔۔ اوپر نیچے رگڑتے رگڑتے پوری رات گزر جاتی ہے انگلیاں گھس جاتی ہیں مگر آنکھوں میں مجال ہے جو نیند کی ہلکی سی بھی لہر اُترے۔۔۔۔ رات بھر کشت اُٹھانے اور کڑی …

مزید پڑھیں

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 4 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری کے پاپا کا import Export کا بزنس تھا۔۔۔ ان کا اسلام آباد میں فلیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کی اپنی زاتی گاڑی بھی تھی حُوری خود ڈرائیو کر کے یونیورسٹی آتی جاتی۔۔۔ ڈرائیور کے ہوتے سوتے اُسے کہیں بار ماما پاپا کی طرف سے ھدایات جاری کی …

مزید پڑھیں

سنو۔۔۔۔۔۔! "جاناں” تمھاری مُحبت بھی محض ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

سُنو ”جاناں“۔۔۔!۔ تمھاری مُحبت بھی محض اک ڈرامہ ہی تھی۔۔۔۔۔۔ بس تم اِس ڈرامے میں اپنا کردار اچھے سے نہیں نبھا پائے۔۔۔۔۔۔ جو بھی چند اک “مجبوریاں” گنوائی تھیں ناں’ تم نے۔۔۔ وہ سب بھی ڈھونگ تھیں۔۔۔!۔ کاش !!!!۔۔۔ زرا پہلے بتا دیتے تم ،تو اس کہانی کے مرکزی کردار …

مزید پڑھیں

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 3 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

آخر کار کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے دو سموسے /چٹنی پلیٹ اور ساتھ میں ایک کپ چائے آرڈر کی۔۔۔ وہ چائے اور سموسے لیکر جلدی سے کینٹین کے پچھلی طرف باغیچے میں پڑے ٹیبل پر بیٹھی اور جلدی جلدی سے سموسوں کے ساتھ ساتھ چائے کی بھی بڑی …

مزید پڑھیں

میرے دل کے ہر اِک تار پر ۔۔۔ ترا نام تھا جولکھا ہوا ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

میرے دل کے ہر اک تار پر ترا نام تھا جو لکھا ہوا۔۔۔ غمِ دل کی حسرتوں نےخار میں اُسے رَگڑ رَگڑ کر مٹا دیا۔۔۔!۔ میری زُباں جو تیری مثال تھی۔۔۔ تیرے ہر اک سوال کا جواب تھی موئے دل نے اُس کو بتا دیا۔۔۔ ترے ہر اِک دَغے کا …

مزید پڑھیں

مُجھے اِک تماشا بنا دیا ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

میرے دل کے ہر اک تار پر ترا نام تھا جو لکھا ہوا ۔۔۔ غمِ دل کی حسرتوں نےخار میں اُسے رَگڑ رَگڑ کر مٹا دیا ۔۔۔ ! ۔ میری زُباں جو تیری مثال تھی۔۔۔ تیرے ہر اک سوال کا جواب تھی موئے دل نے اُس کو بتا دیا ۔۔۔ …

مزید پڑھیں

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 2 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

حُوری جو کہ کافی (Confident)  لڑکی تھی، اُن سب کو خود پر ہنستا دیکھ رونے والی شکل بنا لیتی ہے۔ وہ لڑکا جس کے پاس اُسے بھیجا گیا تھا( مسٹر ہینڈسم) وہ کوئی سٹوڈنٹ نہیں بلکہ اُنکا نیا سائیکالوجی ٹیچر تھا جس کا تبادلہ شاید کسی دوسرے شہر سے یہاں …

مزید پڑھیں

میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بوند ۔۔۔ تحریر : شاعرہ ثناء خان تنولی

"نظم” میرے گھر کے صحن میں گرنے والی بارش کی ہر اک بُوند کی دلکشی، مٹی میں مل کر اور بھی نکھرتی جا رہی ہے۔۔۔!۔ اور یہ خُوشبو۔۔۔۔۔۔۔ دُنیا کی سبھی خُوشبوؤں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے مٹی کی یہ بھینی بھینی سی مہک کس قدر لطف دیتی ھے ناں …

مزید پڑھیں

غلطی معاف ہے، بیوفائی نہیں ۔ ناولٹ قسط 1 ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

  صُبح یونیورسٹی کا پہلا دن تھا، اور حُوری ابھی تک ڈریس کی سلیکشن میں کنفیوز تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ پہلا تاثر بہت معنی خیز ہوتا ھے۔۔۔ اپنی ماما کے کمرے میں 5-6 ہینگروں سمیت کپڑوں کے جوڑے اُٹھا کر شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔ ماما !۔۔۔ …

مزید پڑھیں

بے دردی ۔ کہانی ۔۔۔ تحریر : ثناء خان تنولی

مناہل نوکری ملنے کی خوشی میں آفس سے انٹرویو کے بعد نکلتے ہی خوشی کے اظہار کے طور پر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر کودنے لگی، اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسے یہ نوکری مل کیسے گئی کیونکہ اس سے پہلے وہ ایک سیلز گرل کے طور …

مزید پڑھیں