کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی میں رئیل اسٹیٹ فراڈ کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو اس شعبہ کی آڑ میں بھاری کالے دھن کو چھپایا جا رہا ہے اور دوسری طرف دھوکہ دہی کے ذریعے شہریوں کو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ لینڈ گریبرز، قبضہ مافیا اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون، ریاست کے اندر ریاست ہیں جو بھاری رشوت کے ذریعے پولیس، انتظامیہ اور سیاستدانوں کا منہ بند رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔
کراچی میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، اراضی اور عمارت کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے پر مقرر ذمہ دار حکام کرپٹ ہیں۔ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ اسلام آباد میں حال ہی میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رجسٹریشن میں ناکامی پر 14 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے لیکن کراچی میں کے ڈی اے یا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ کراچی میں نہ صرف کے ایم سی، ڈی ایم سیز، کے ڈی اے، ایس بی سی اے اور بورڈ آف ریونیو جیسے محکمے اراضی، رئیل اسٹیٹ اور بلڈر مافیا کی مدد کرتے ہیں بلکہ پولیس، محکمہ اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور دیگر ادارے بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت، انتظامیہ، ایس بی سی اے اور کے ڈی اے سے مطالبہ کیا کہ شہر میں موجود غیر قانونی کچی آبادیوں کو ختم کیا جائے۔ متاثرین کو متبادل پناہ گاہیں فراہم کی جائیں۔ غیر قانونی کچی بستیوں کے پیچھے موجود لینڈ مافیا کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ کراچی میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی بے ضابطگیوں اور فراڈ کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ شہر میں زمینوں اور رئیل اسٹیٹ کے فراڈ کو روکنے کے لیے فول پروف طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے شہر قائد میں زمین اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھی لینڈ مافیا اور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون جیسی مافیاز کی پشت پناہی کرتی ہیں کیونکہ وہ انہیں فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ کے ڈی اے نے کئی دہائیوں سے کراچی میں کسی نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان نہیں کیا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، اپنا گھر بنانے کے چکر میں وہ ان مافیاز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہاکس بے سکیم صدیوں سے التواء کا شکار ہے۔ اس سکیم کے الاٹیوں کو مکمل واجبات ادا کرنے کے باوجود ابھی تک اپنے پلاٹوں کا قبضہ نہیں ملا ہے۔ درحقیقت اسکیم 42 ہاکس بے کراچی کے اُن شہریوں کے ساتھ استحصال کی ایک بڑی مثال ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی یہاں پلاٹ بک کروانے میں صرف کردی ہے۔ رہائشی سہولیات کی شدید کمی کی وجہ سے کراچی میں کچی آبادیوں اور جھونپڑیوں کا ایک جال سا بچھ گیا ہے۔
ایم 9، کراچی حیدرآباد موٹر وے پر سہراب گوٹھ سے جمالی پل تک، سڑکوں کے کنارے پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز، آٹو مکینکس اور جھونپڑیوں کے مکینوں کی کھلے عام تجاوزات قائم ہیں ہیں لیکن نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور دیگر متعلقہ ادارے ان غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے میں ناکام ہیں۔ درحقیقت کراچی جیسا بڑا شہر بیڈ گورننس کی ایک بھیانک مثال ہے۔ مرکزی، مقامی اور سندھ حکومتوں کے کرپٹ اہلکاروں نے کراچی کو رشوت خوروں کے لئے جنت بنا دیا ہے۔ کراچی کو کم آمدنی والے شہریوں کے لئے درجنوں نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی ضرورت ہے تاکہ میگا سٹی میں مکانات کی شدید قلت کو دور کیا جا سکے۔