کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ صائمہ ندیم نے کہا ہے کہ کراچی وزیرا عظم عمران خان کی توجہ کا مرکز ہے، کراچی کیلئے بنیادی اہمیت رکھنے والے منصوبوں میں وفاق نے اپنا کردار بڑھایا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر سلیم الزماں، چیئرمین و سی ای او کائٹ زبیر چھایا، نائب صدر کاٹی نگہت اعوان، سابق صدر کاٹی شیخ فضل جلیل، رہنما پی ٹی آئی سمیر شیخ ، ماہین سلمان اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ صدر کاٹی سلیم الزماں نے کہا کہ کراچی پیکج کے تحت منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کی ضرورت ہے، کراچی کی تعمیر و ترقی کے بغیرملکی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ سلیم الزماں نے کہا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ صنعتی رابطہ کمیٹی قائم کرکے صنعتوں اور وفاقی حکومت کے مابین رابطے مضبوط کرنے کے لیے قابل تحسین اقدام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے مابین اختیارات سے متعلق اختلافات اور ابہام کا اثر معاشی مسائل اور کراچی میں جاری منصوبوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ کراچی وفاق کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے اور وزیراعظم کو سب سے بڑا مینڈیٹ بھی کراچی ہی نے دیا، اب اس شہر کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے زبیر چھایا نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت ملک میں معاشی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے تو وزیر اعظم کو ہفتے میں ایک دن کراچی میں گزار کر یہاں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ قبل ازیں پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ صائمہ ندیم نے کہا کہ ماضی کے بگاڑ کو دور کرنے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں، کورونا سے پیدا شدہ مشکل حالات کے باوجود وزیرا عظم نے صنعتوں اور کاروباری شعبے کو ریلیف فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی وزیرا عظم کی توجہ کا مرکز ہے اسی لیے پانی اور بجلی کی فراہمی سے متعلق منصوبوں میں وفاق کا کردار بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پیکج پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاق کے کردار کو بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما سمیر شیخ نے کہا کہ کراچی پیکج کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان نے شہرکے متنخب ارکان اسمبلی کو پچاس پچاس کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈز بھی فراہم کردیئے ہیں جس سے شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے منصوبے مکمل ہوں گے اور آٗئندہ برسوں میں اس کے اثرات نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔