کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سول سوسائٹی، انسانی و مزدور حقوق کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھے ہوئے پورٹ قاسم کے مزدوروں کے حق میں جمعرات کی سہہ پہر ریگل چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کے جائز حقوق کو تسلیم کرکے ان کو لیبر قوانین کے تحت حقوق دیے جائیں۔ بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی، انسانی حقوق اور مزدور حقوق کے رہنماؤں نے کہا کہ پورٹ قاسم کی برتھ 3اور 4چین کی کمپنیوں کو دی گئی ہیں جو کہ ڈاک لیبر کو ان کے قانونی حقوق اور تنخواہیں ادا نہیں کررہی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آ ف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے سربراہ کرامت علی نے کہا کہ اگر مزدوروں کے مسائل حل نہیں کیے گئے تو وہ اسلام آباد میں پارلے مینٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ پورٹ قاسم ورکرز یونین کے سیکریٹری جنرل حسین بادشاہ، ناصر منصور، حبیب الدین جنیدی، لیاقت ساہی، سعید بلوچ، منظور رضی، مس شمائلہ نے اس موقع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم بندرگاہ 1981ء سے آپریشنل ہوا ہے اور پہلے دن سے ڈاک ورکر یہاں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آج کوئی بھی ڈاک ورکرز کی حیثیت اور حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ان کے جائز حقوق غصب کرلیے گئے ہیں اور ان سے چھٹکارا پانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ ڈاک ورکرز (ریگولیشن آف ایمپلائمنٹ) ایکٹ 1974ء میں حاصل شدہ تحفظ اور حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ برتھ نمبر 3 اور نمبر 4 پر کول ٹرمینل پر ڈاک ورکرز کے کام کرنے کے استحقاق کو باقاعدہ ایک یادداشت میں وزیر پورٹ اینڈ شپنگ (کامران مائیکل) اور چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی نے تسلیم کیا ہے اور اس کے بعد آنے والی چائنا کمپنی کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ڈاک ورکرز کے حق روزگار کی وضاحت کے لیے کافی ہے مگر اس کے باوجود ڈاک ورکروں کو برتھ نمبر 3 اور نمبر 4 سے بیدخل کرنے کی سازشیں اور کوششیں زور شور سے جاری ہیں۔1751 ڈاک ورکرز نے ان ناانصافیوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج 25 ستمبر 2018سے شروع کیا گیا جس کو آج 107 دن پورے ہوگئے ہیں۔ اس دوران ڈاک ورکرز کے مسئلے کو معزز اراکین قومی اسمبلی کو بھی پیش کیا گیا، سینیٹ میں بھی اس پر بحث ہوئی، وزیراعظم نے دوبار نوٹس بھی لیا جو کہ پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی زینت تو بنا مگر اس پر کوئی عملدرآمد نہ ہوسکا۔ ڈاک ورکرز کا مسئلہ اتنا پیچیدہ اور مشکل نہیں ہے بلکہ نہایت ہی آسان اور سادہ سی بات ہے۔ چائنا کمپنی جو پہلے ہی ڈاک ورکرز سے معاہدہ کرچکی ہے اور اسی معاہدے کے تحت ڈاک ورکرز آج بھی ٹرمینل پر کام کررہے ہیں اس معاہدہ پر نظرثانی باہمی مشاورت سے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ 1751 ڈاک ورکروں میں سے تقریباً 1500 ڈاک ورکروں کے پاس کارڈ موجود ہیں جب کہ صرف 250 ورکروں کو گیٹ پاس جاری کرنے کا مطالبہ ہے۔ ورکرز یونین آف پورٹ قاسم سی بی اے نے جنرل باڈی میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو تمام ڈاک ورکرز قومی اسمبلی کے گیٹ پر تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔ جان دے دیں گے مگر اپنے جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
![]()