Home / اہم خبریں / تمام شوگر ملز کو حکومتی تحویل میں لیکر انتظامیہ کے ذریعے چلوانے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاجران کا مشترکہ بیان

تمام شوگر ملز کو حکومتی تحویل میں لیکر انتظامیہ کے ذریعے چلوانے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاجران کا مشترکہ بیان

ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) مرکزی انجمن تاجران ڈیرہ کے صدر راجہ اختر علی، راجہ انور علی ایڈوکیٹ، بشیر احمد، ملک اللہ ڈتہ، احمد نواز، الطاف چانڈیا و دیگر نے کہا ہے کہ شوگرملز مافیا نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑا رکھا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم چشمہ شوگر ملزسمیت دیگر شوگر ملز انتظامیہ سرعام کسانوں کا استحصال کرنے میں دن رات مصروف عمل ہے جبکہ گنا کا سیزن شروع ہونے کے باوجود تاحال شوگر سیزن شروع نہیں کیا گیا ہے جس سے زمینداروں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سال تو شوگر ملز نے بے حسی کی حد کر دی ہے، دسمبر کا مہینہ شروع ہونے کے باوجود کرشنگ سیزن شروع نہیں کیا جا رہا، کاشتکاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اس لئے احتجاجی تحریک شوگر ملز کے گھیراؤ اور اس سے بھی آگے جاسکتی ہے، بڑے پیمانے پر کوئی نقصان ہوئے تو اس کے ذمے دار شوگرملز مالکان اور انتظامیہ ہوگی۔ 15 نومبر کو گنے کی خریداری کا اعلان شوگر ملز مالکان نے کیا لیکن ابھی تک گنے کی خریداری شروع نہ ہوسکی جس کی وجہ کسان پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں گزشتہ سال کے بقایاجات ابھی تک نہیں مل سکے خود تو شوگر ملز مالکان فی ٹن چینی سے 5 ہزار روپے منافع کما رہے ہیں لیکن کسان ابھی بھی بد حالی کا شکار ہیں گزشتہ سال کی طرح گندم بھی مقررہ وقت پرکاشت نہیں جاسکے گی۔ عمران خان شوگر مافیا کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو رہے تو فوری طور پر شوگر ملیں حکومتی تحویل میں لے کر انتظامیہ کے ذریعے شوگر ملیں چلوائیں، انہوں نے کہا شوگر ملز مالکان مافیا پاکستان کا بڑا غنڈہ مافیا ہے۔ کسانوں کے گزشتہ سال کے پیسے ابھی تک نہیں ملے اور سے شوگر ملز مالکان نے دسمبر شروع ہونے کے باوجود کریشنگ شروع نہیں کی جو کہ ظلم ہے کسان کی آنکھوں میں خون کے آنسوں ہیں کماد کی فصل کھیتوں میں سوکھ رہی ہے گنے کی مٹھاس بڑھ رہی ہے اور حکومت تماشا دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے کرشنگ سیزن شروع نہ کرنے پر تمام شوگر ملز کو حکومتی تحویل میں لیں انتظامیہ کے ذریعے چلوانے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کے قرضے اور موجودہ فصل کے حالات دیکھتے ہوئے کسان موت کے دہانے پر پہنچ چکا ہے سود در سود قرضوں نے کسانوں کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملز مالکان مافیا کاشتکاروں کا استحصال کرنے کی ٹھان لی ہے۔ حکومت کی مقرر کردہ تاریخ پر بھی ملیں نہیں چلائی گئیں تو تمام شوگر ملز حکومت اپنی تحویل میں لے کر خود ان کا انتظام سنبھال کر انہیں چالو کروائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں کوالیفائر کا جوش عروج پر، ٹکٹس کی تفصیلات جاری

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے 28 اپریل کو نیشنل بینک سٹیڈیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے