ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہرغنچہ) ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے باعث فارن کرنسی رکھنے والوں کو بیٹھے بیٹھائے اٹھارہ ارب روپے کا فائدہ ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں مختلف بینکوں میں روپے رکھنے والے پاکستانی رواں سال کے دوران روپے کی قدر میں بھاری کمی کے سبب لٹ گئے تو ڈالر یا دیگر غیر ملکی کرنسیوں میں فارن کرنسی اکاﺅنٹ والے پاکستان امراء ان دس ماہ کے دوران بیٹھے بیٹھائے اپنی دولت میں 188 ارب روپے کے اضافہ کا فائدہ پاگئے۔ 2018 کے آغازمیں امریکی ڈالر 110 روپے کا تھا۔ نگران حکومت میں امریکی ڈالر 123 جبکہ موجودہ حکومت میں ڈالر 140 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بینک سیکٹر کے ذرائع کے مطابق غیر ملکی کرنسی اکاﺅنٹ رکھنے والوں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا ہے ایک محتاظ اندازے کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مالیت تیس روپے کم ہوئی تو فارن کرنسی اکاﺅنٹ ہولڈروں کو اس تناسب سے فائدہ ہوا ہے۔
![]()