کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، نقاد اور استاد پروفیسر سحر انصاری کی شخصیت و فن پر مبنی کتاب ’’سحر انصاری: شخصیت اور فن‘‘ کی تقریبِ پذیرائی منعقد ہوئی۔ کتاب کی تحقیق و تخلیق ضیاء الحسن اور مشتاق احمد خان نے کی ہے۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی جبکہ پروفیسر سحر انصاری مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ یہ محفل دراصل ’’جشنِ سحر انصاری‘‘ ہے، ان کی فکر، شاعری اور تنقید ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان مضبوط ربط قائم کرتی ہے اور ان کا علمی و ادبی کام نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ تقریب سے ڈاکٹر ضیاء الحسن، فراست رضوی، ڈاکٹر رخسانہ صبا، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر اور پیرزادہ سلمان نے بھی اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت خالد معین نے انجام دی۔
پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ احمد شاہ نے علمی و ادبی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنے کی خوبصورت روایت قائم کی ہے اور آج کی تقریب ان کے لیے تاریخی اور یادگار موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جگر مرادآبادی، جوش ملیح آبادی، تابش دہلوی، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور دیگر بڑے اہلِ قلم کی صحبت نصیب ہوئی جبکہ بھارت میں کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری اور عصمت چغتائی سے بھی ملاقات رہی۔ مقررین نے سحر انصاری کی وسیع علمی و ادبی خدمات، تنقیدی بصیرت، شعری صلاحیت اور تدریسی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اردو ادب کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ تقریب میں ڈاکٹر کامران جہانگیر اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ویڈیو پیغامات جبکہ ڈاکٹر ضیاء الحسن نے آن لائن گفتگو کی، بعد ازاں ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی اور پروفیسر سحر انصاری کو گلدستے پیش کیے۔