کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے واضح کیا ہے کہ سندھ کی تقسیم یا صوبے میں ایک سے زائد حکومتوں کے قیام کا کوئی امکان نہیں نہ ہی لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کوئی بڑی تبدیلی کی جارہی ہے اور نہ ہی سابقہ بلدیاتی نظام بحال کیا جارہا ہے سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کی تقاریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ صوبے کی تقسیم کی بات نہیں کررہے تاہم انتظامی یونٹس کے نام پر معاملے کو مختلف انداز میں پیش کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی اس معاملے پر پہلے بھی متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی بحث کی جائے گی۔
سعید غنی نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بعض معمولی ترامیم زیر غور ہیں، جن کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے اور کمیٹی اپنی سفارشات جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی، جس کے بعد معاملہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث آئے گا سب رجسٹرارز کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی تفصیلات کا علم نہیں تاہم ان کی رائے ہے کہ جو ملازم ترقی حاصل نہیں کرنا چاہتا اسے اپنی ملازمت چھوڑ دینی چاہیے یا ترقی قبول کرکے ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمت میں اپنی مرضی سے کام کرنے کا طریقہ قابل قبول نہیں۔
وزیر محنت سندھ نے کہا کہ صوبے میں کچے کی زمین کا بڑا حصہ موجود ہے جس کا باقاعدہ سروے ضروری ہے، کیونکہ کئی علاقوں میں زمین کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں۔ سروے کے بعد زمینوں کی ملکیت، قبضوں اور قائم گوٹھوں کی صورتحال واضح ہوسکے گی، جس کی بنیاد پر آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔ سندھ پبلک سروس کے ملازمین کے احتجاج پر انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم ہر مطالبہ لازماً قانونی حق نہیں بن جاتا۔ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی مالی معاونت کے حوالے سے سعید غنی نے بتایا کہ اینڈومنٹ فنڈ سے مدد شروع کردی گئی ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کام کررہی ہے۔ ان کے مطابق سابقہ تحقیقات میں 37 افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔