کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تیل کے شعبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ معاملہ اب صرف ایک کمپنی یا چند اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا، بلکہ تیل ذخیرہ کرنے کے اجازت ناموں، ایندھن کے حقیقی ذخائر اور تقریباً 10 ارب روپے کے سرکاری معاوضوں کے دعووں تک پہنچ گیا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کراچی حلقہ دو بڑے پہلوؤں کی جانچ کر رہا ہے۔ ایک طرف پیٹرولیم اور کیمیائی مواد کے ذخیرہ گاہوں کے اجازت ناموں کے اجرا اور تجدید میں ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ایندھن کے ذخائر اور سرکاری معاوضوں کے دعووں میں مبینہ گڑبڑ دیکھی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں سابق سربراہِ محکمہ دھماکہ خیز مواد کو بھی ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا کچھ اجازت نامے پیٹرولیم قواعد 1937ء کے مطابق جاری یا تجدید کیے گئے تھے یا نہیں۔ اگر ریکارڈ میں خامیاں ثابت ہوئیں تو معاملہ صرف دفتری غفلت نہیں رہے گا، بلکہ اسے مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور غیر شفاف سرکاری ادائیگیوں سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کو معائنے کے دوران ایندھن کے ذخائر میں نمایاں فرق بھی ملا۔ اطلاعات کے مطابق کراچی کی ذخیرہ گاہوں پر 6 ہزار 891 میٹرک ٹن تیز رفتار ڈیزل، 8 ہزار 117 میٹرک ٹن پیٹرول، اور 5 ہزار 10 میٹرک ٹن اعلیٰ اوکٹین آمیزہ کے ذخائر میں تضادات سامنے آئے۔ تفتیش کاروں کے نزدیک یہ فرق معمولی حسابی غلطی نہیں، بلکہ ممکنہ ذخیرہ اندوزی یا اعداد و شمار میں ردوبدل کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
سب سے حساس نکتہ سرکاری معاوضوں کے دعووں کا ہے۔ یہ وہ رقم ہوتی ہے جو حکومت قیمتوں کے فرق یا پالیسی فیصلوں کے باعث کمپنیوں کو ادا کرتی ہے، تاکہ قیمتوں کا دباؤ فوری طور پر عام صارف تک نہ پہنچے۔ مگر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ نے اسی نظام کو کمزور اور غیر منطقی قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دعووں کو فروخت کی مقدار سے جوڑنے کے باعث کمپنیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ پرانے، نسبتاً سستے ذخائر پر بھی معاوضہ مانگ سکیں۔
رپورٹس میں دو بڑے دعووں کا ذکر ہے، جن میں ایک تقریباً 2 ارب 98 کروڑ روپے اور دوسرا 7 ارب 10 کروڑ روپے کا بتایا گیا۔ یوں مجموعی رقم 10 ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔ یہی رقم اس معاملے کو زیادہ سنگین بناتی ہے، کیونکہ تفتیش کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ دعوے حقیقی درآمدات، مقامی خریداری اور دستیاب ذخائر سے مطابقت رکھتے تھے یا نہیں۔
اس سے پہلے عبوری تحقیقات میں بھی کہا گیا تھا کہ بعض تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں نے ایسے ادوار میں معاوضہ مانگا جب انہوں نے نہ مقامی کارخانوں سے ایندھن خریدا اور نہ ہی اسے بیرونِ ملک سے منگوایا۔ ایک رپورٹ کے مطابق دو کمپنیوں نے بالترتیب 1 کروڑ 56 لاکھ روپے اور 1 کروڑ 59 لاکھ روپے کے دعوے دائر کیے، حالانکہ متعلقہ مدت میں نئی خریداری یا درآمد کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
معاملے کا پس منظر قیمتوں اور رسد کی صورتحال سے جڑا ہے، جب خطے میں کشیدگی اور بازار میں غیر یقینی کیفیت کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اور ذخائر پر سوالات اٹھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مبینہ تیل ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی شواہد میں ایک کمپنی کی جانب سے ممکنہ طور پر ذخائر روکنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، جس سے بازار میں قلت کا تاثر پیدا ہو سکتا تھا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کا نظام پہلے ہی عوامی دباؤ، سرکاری رعایت، محصولات، عالمی قیمتوں اور روپے کی قدر کے درمیان الجھا رہتا ہے۔ ایسے میں اگر کمپنیوں نے پرانے ذخائر کو نئے قیمت فرق کے تحت دکھایا، یا ذخائر چھپا کر بازار کو متاثر کیا، تو نقصان صرف قومی خزانے کو نہیں بلکہ عام شہری کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
تیل و گیس کے نگران ادارے اور پیٹرولیم ڈویژن کے کردار پر بھی سوالات موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صنعت کے سرکاری معاوضوں کے دعوے پہلے ہی بڑے حجم تک پہنچ چکے تھے، اور ایک سابقہ تجزیے میں 125 ارب روپے تک کے دعووں کے فوری خصوصی حسابی جائزے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ 10 ارب روپے کا معاملہ شاید ایک بڑے نظامی مسئلے کا صرف ایک حصہ ہو۔
اب اصل امتحان وفاقی تحقیقاتی ادارے کے لیے ہے۔ اسے صرف کاغذی ریکارڈ نہیں دیکھنا ہوگا، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ کس کمپنی نے کتنا ایندھن رکھا، کتنا ظاہر کیا، کس تاریخ کو خریداری یا درآمد ہوئی، اور کس بنیاد پر حکومت سے معاوضہ مانگا گیا۔ یہ کام آسان نہیں، کیونکہ پیٹرولیم رسد کے نظام میں ذخیرہ گاہیں، مقامی کارخانے، تیل فروخت کرنے والی کمپنیاں، نگران ادارے اور سرکاری محکمے سب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔
اگر تحقیقات میں بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو اجازت ناموں کی منسوخی، رقم کی واپسی، فوجداری کارروائی اور پالیسی اصلاحات جیسے اقدامات سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر معاملہ صرف کمزور نگرانی اور ناقص طریقۂ کار کا نکلا، تب بھی حکومت کو سرکاری معاوضوں کا نظام دوبارہ بنانا پڑے گا۔
فی الحال تصویر مکمل طور پر صاف نہیں، مگر اشارے سنجیدہ ہیں۔ تیل کے ذخائر، قیمتوں کے فرق اور اربوں روپے کے سرکاری دعووں کا یہ معاملہ پاکستان کے پیٹرولیم نظام میں شفافیت کا بڑا امتحان بن چکا ہے۔