کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ملک کے معروف ادیب سید مظہر جمیل کی یاد میں حسینہ معین ہال میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، ممتاز شاعر افتخار عارف، جسٹس (ر) مقبول باقر سمیت ادبی، سماجی اور علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سید مظہر جمیل کی علمی، ادبی اور فکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے انہیں ایک محنتی، شفیق اور قابل وکیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ علمی ذوق کے بھی حامل تھے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کہ مظہر جمیل کا ادارے کے ساتھ گہرا تعلق رہا اور انہوں نے اردو ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ افتخار عارف نے کہا کہ مظہر جمیل کی تحریریں ان کی اصل میراث ہیں اور انہوں نے سندھی و اردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
دیگر مقررین میں پروفیسر سحر انصاری، جعفر احمد، ناظر محمود، فاطمہ حسن، مبین مرزا، ڈاکٹر سحر امداد حسینی، ضیا اعوان، مہناز رحمان، حسیب جمالی اور دیگر شامل تھے، جنہوں نے مظہر جمیل کی شخصیت کو ایک سنجیدہ، علم دوست اور باوقار انسان قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ محنت، دیانت اور مثبت سوچ کے ساتھ علم و ادب کی خدمت کی اور ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر اہلِ خانہ نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیے۔