کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ٹریڈ یونینز اگر 50 سے 70 سال پرانے اندازِ سیاست پر قائم رہیں تو آئندہ دس برسوں میں مزید زوال کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ مزدور سیاست کو بھی خود کو تبدیل کرنا ہوگا ورنہ ٹریڈ یونینز کی افادیت مزید کم ہوتی جائے گی۔ کراچی پریس کلب میں ایپنک کے نو منتخب عہدیداران کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی خود کو ٹریڈ یونین ورکر سمجھتے ہیں اور اسی جدوجہد نے انہیں صوبائی وزارت تک پہنچایا ہے۔
سعید غنی نے بتایا کہ صوبائی حکومت یونیورسل سوشل سیکیورٹی پر کام کر رہی ہے اور بینظیر مزدور کارڈ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف انڈسٹریل ورکرز بلکہ صحافیوں، رکشہ و ٹیکسی ڈرائیورز، ٹھیلے والوں اور مختلف نجی شعبوں سے وابستہ محنت کشوں کو بھی سوشل سیکیورٹی کے نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے مزدور کی معمولی کنٹریبیوشن ضروری ہے، ورنہ مکمل سرکاری اخراجات پر مبنی ماڈل طویل عرصے تک نہیں چل سکے گا اور مزدور اپنی اسکیم کی اونرشپ بھی محسوس نہیں کرے گا۔
انہوں نے ماضی کے ناکام حکومتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفت رکشے اور پلاٹس دینے کے فیصلے اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ بغیر چارجز کے دی گئی سہولتیں برقرار نہ رہ سکیں اور زیادہ تر لوگوں نے انہیں اونے پونے فروخت کردیا۔ انہوں نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ہاؤسنگ منصوبوں میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچاس برسوں میں صرف دس ہزار فلیٹس بن سکے اور اربوں روپے ضائع ہوگئے، اگر یہی فنڈز صحت اور تعلیم پر لگائے جاتے تو لاکھوں مزدوروں کی زندگی بہتر ہو چکی ہوتی۔
کم از کم اجرت کے نفاذ سے متعلق سعید غنی نے کہا کہ محکمہ محنت کے پاس وسائل محدود ہیں لیکن جہاں بھی شکایت موصول ہو، فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیلڈ ورکرز کی کم سے کم اجرت 40 ہزار سے زیادہ ہے، اس لیے انہیں اپنی کیٹیگری کے مطابق حق مانگنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹریڈ یونینز کو اپنی اندرونی خامیاں بھی دور کرنا ہوں گی، کیونکہ جب تک یونین اور مینجمنٹ دونوں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے، ادارے ترقی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے امپلیمنٹیشن کمیشن کے قیام کے حوالے سے کہا کہ اگر قانون اجازت دے تو سندھ حکومت اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرے گی۔