کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) تحریک لبیک پاکستان کے نامزد امیدوار برائے پی ایس 87 قربان علی بھرگڑی نے ضمنی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری انتخابی مہم میں صوبائی حکومت کے وسائل بے دریغ استعمال کرکے ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہوتی رہی اور صوبائی حکومتی جماعت کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سرعام انتخابی مہم چلاتے رہے لیکن الیکشن کمیشن کی آنکھیں مکمل طور ان خلاف ورزیوں پر بند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کو ناموس رسالت پر دو ٹوک موقف کی سزا دی جا رہی ہے۔ عوام الناس میں تحریک لبیک کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے حکومتی جماعت سے وابستہ جاگیرداروں کی جدی پشتی سیٹ خطرے میں نظر آتے ہی ان کے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ملیر میں اترنا پڑا۔ لیکن عوام کی بڑی تعداد نے ان جاگیرداروں اور وڈیروں کو مسترد کردیا ہے۔ الیکشن کے نتائج کو انجینیئرنگ کے ذریعے تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پر تحریک لبیک کا موقف تبدیل نہیں ہوسکتا اور تحریک لبیک کے کارکنان اپنے قائدین کے موقف کے پیچھے مکمل قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ایس 87 کے امیدوار قربان علی بھرگڑی نے کہا کہ انتہائی کم ٹرن آوٹ کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں ووٹوں کا بیلٹ باکسز سے برآمد ہونا بذات خود دھاندلی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
![]()