Home / اہم خبریں / زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم عمران کو 17 اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی- ڈیتھ وارنٹ جاری

زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم عمران کو 17 اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی- ڈیتھ وارنٹ جاری

لاہور (بیورو رپورٹ) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم عمران کے بلیک وارنٹ جاری کردیئے ہیں، مجرم عمران کو 17 اکتوبر کو پھانسی دی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شیخ سجاد احمد نے قصور کی ننھی زینب کے قاتل عمران کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے، جس کے مطابق زینب سمیت7 بچیوں کے قاتل کو 17 اکتوبر بدھ کی علی الصبح سینٹرل جیل لاہور میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ یاد رہے 6 اکتوبر چیف جسٹس نے زینب کے قاتل کی سزائےموت پرعمل درآمد نہ ہونے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو مجرم کی سزا پر عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ مجرم عمران علی کی سزا پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ خاتون وکیل نے بتایا کہ مجرم کی رحم کی اپیل وزارت داخلہ نے صدر مملکت کو بھجوائی ہے۔ یاد رہے 17 فروری کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مجرم عمران کو چار مرتبہ سزائے موت، عمر قید، سات سال قید اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں، عدالتی فیصلے پر زنیب کے والد امین انصاری نے اطمینان کا اظہار کیا اور اس مطالبے کو دوہرایا کہ قاتل عمران کو سر عام پھانسی دی جائے۔ مجرم کو مجموعی طور پر 21 بار سزائے موت کا حکم جاری کیا گیا ، کائنات بتول کیس میں مجرم کو 3 بارعمر قید، 23 سال قید کی سزا اور 25 لاکھ جرمانہ جبکہ 20 لاکھ 55 ہزار دیت کابھی حکم دیا تھا۔ عدالت نے 5 سالہ تہمینہ، 6 سالہ ایمان فاطمہ کا فیصلہ بھی جاری کرچکی ہے، 6 سال کی عاصمہ،عائشہ لائبہ اور 7 سال کی نور فاطمہ کیس کا بھی فیصلہ دیا جاچکا ہے۔زینب کے قاتل نے سپریم کورٹ میں سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی ،جسے عدالت نے مسترد کردی تھی، جس کے بعد عمران نے صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی تھی۔ ننھی زینب کے والد امین انصاری نے صدر مملکت ممنون حسین کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ زینب کے قاتل عمران کی رحم کی اپیل مسترد کردی جائے۔خیال رہے زینب قتل کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے مختصرٹرائل تھا، جو چالان جمع ہونے کے سات روز میں ٹرائل مکمل کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں روزانہ تقریباً 10 گھنٹے سماعت ہوئی اور اس دوران 25 گواہوں نے شہادتیں ریکارڈ کروائیں۔ اس دوران مجرم کے وکیل نے بھی اس کا دفاع کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اسے سرکاری وکیل مہیا کیا گیا۔ واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں ننھی زینب کے بہیمانہ قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ننھی زینب کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے دو روز بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی- زینب کو اجتماعی زیادتی، درندگی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا- جس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئی تھی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایبٹ آباد میں آئی ٹی ایف–پی ٹی ایف وہیل چیئر ٹینس کوچنگ کیمپ کا آغاز

ایبٹ آباد، (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) اور انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے