کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) صوبائی محکمہ صحت نے صوبہ سندھ کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلہ کے لیے پراسپکٹس جاری کر دیا جس کے مطابق صوبہ بھر میں داخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ ٹیسٹ عنقریب شروع ہونے والے ہیں لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز سے ملحق ڈاؤ ڈینٹل کالج اور ڈاکٹر عشرت العباد خان ڈینٹل کالج میں داخلوں کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی رجسٹریشن سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ دونوں کالجز گذشتہ کئی سالوں سے لاکھوں روپے سالانہ فیس کے ساتھ طلباء کو داخلہ دیتے رہے ہیں اور بالخصوص ڈاؤ ڈینٹل کالج سے نوے سے زائد ڈاکٹرز گذشتہ دو سالوں میں فارغ الاتحصیل ہو چکے ہیں لیکن ان ڈاکٹرز کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث نہ تو وہ کہیں ملازمت کر سکتے ہیں، نہ ہی اپنا کلینک کھول سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مزید تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ ڈاؤ میڈیکل ڈینٹل کالج کی ابتداء 2012 میں ہوئی تھی۔ مبینہ طور پر اس وقت کالج کی پراسپکٹس اور ویب سائٹ پر تعارف میں تحریر تھا کہ یہ کالج میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ جھوٹ جان بوجھ کر لو گوں کو دھوکہ دینے کے لیے لکھا گیا تھا یا پی ایم ڈی سی کی اجازت کے ساتھ ۔ گذشتہ چھ سالوں سے یہی جتایا جا رہا ہے کہ یہ کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے رجسٹرڈ ہے ، یہاں داخلے جاری رہے، کلاسسز بھی نارمل انداز میں ہوتی رہی ہیں، امتحا نات بھی اور گذشتہ دو سالوں میں نوے سے زائد طلبہ تعلیم مکمل کر کے ڈاکٹر بھی بن گئے لیکن جب انہیں پیشہ وارانہ طور پر ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹریشن کی ضرورت پڑی تو انہیں بتایا گیا کہ وہ ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹرڈ نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے جس ادارے سے تعلیم حاصل کی ہے وہ پی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان بچوں سے پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن فیس کی مد میں ڈاؤ میڈیکل کالج کی انتظامیہ پیسے بھی وصول کر تی رہی۔ اس سال فارغ التحصیل ڈاکٹروں نے اس صورتحال پر کالج میں احتجاج کیا تو انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ فارغ ا لتحصیل ڈاکٹرز اور ان کے والدین نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گذشتہ چھ سالوں سے ڈاؤ میڈیکل ڈینٹل کالج میں غیر قانونی طور پر تدریسی عمل جاری رہا ہے۔ ان بچوں نے ہاؤس جاب بھی مکمل کیا ہے، ان کی رجسٹریشن فیس پی ایم ڈی سی کو جاتی بھی رہی ہے لیکن نہ تو پی ایم ڈی سی نے اس کا کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی صو بائی حکومت یا کسی اور حکومتی ادارے نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ بغیر رجسٹریشن اتنا اہم ادارہ چل کیسے رہا ہے۔ ان طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر کو بھی خط تحریر کیا ہے لیکن اس سال حکومت سندھ کی جانب سے میڈیکل کالجز کے داخلوں کے لیے مرکزی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس کے ساتھ ڈاؤ ڈینٹل کالج اور ڈاکٹر عشرت العباد ڈینٹل کالج میں داخلوں کو پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن سے مشروط کردیا ہے۔ سوال یہ ہے اگر رجسٹریشن نہ ہوئی تو نئے طلباء کو داخلہ نہیں ملے گا مگر تدریسی عمل کو نہ روکا جاسکے گا کیونکہ سال دوم تا چہارم طلبہ کالج میں پہلے ہی موجود ہیں، نیز پی ایم ڈی سی سے رجسٹریشن نہ ہونے کی صورت میں ان ڈاکٹروں کا مستقبل کیا ہوگا جو 2017 اور 2018ء میں تعلیم مکمل کرچکے ہیں بلکہ پچاس کے قریب ڈاکٹروں نے ہاؤس جاب بھی مکمل کرلی ہے۔ گزشتہ چھ سالوں میں ڈاؤ ڈینٹل کالج اور ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ نیز پی ایم ڈی سی اور حکومت سندھ کے کرتا دھرتاؤں نے اپنی آنکھیں بند رکھیں جس کے باعث 90 سے زائد ڈاکٹروں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ دوسو (200) طلبہ جو ڈاؤ کالج میں زیرِ تعلیم ہیں انکے مستقبل کا بھی کچھ پتہ نہیں جبکہ اس صورتحال کے باعث صوبہ سندھ خصوصاً کراچی کے میڈیکل کے طلبہ کے لیے ایک سو پچاس نشستیں کی کمی بھی ممکن ہے۔ فارغ التحصیل ڈاکٹروں اور ان کے والدین کوشدید تشویش لاحق ہے کہ انہوں نے نہ صرف کروڑوں روپے کالج کی انتظامیہ کو ادا کیے ہیں بلکہ چار سال پر محیط وقت بھی ڈاکٹر بننے پر لگا یا ہے اور ان کے اداروں کی نا اہلی کے باعث انکا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان ڈاکٹروں اور انکے والدین نے صدرِ مملکت، جوکہ خود دندان سازی کے پیشے سے وابستہ ہیں، درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے انہیں پی ڈی ایم سی سے رجسٹریشن دلوائیں۔ فارغ التحصیل ڈاکٹروں اور انکے والدین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملہ پر کالج انتظامیہ اور پی ایم ڈی سی سے بھی جواب طلب کریں تاکہ 90 سے زائد ڈاکٹروں کے مستقبل کو بچایا جاسکے۔
![]()